ریڈ الرٹ کو نظرانداز کرنے کے باعث بحری اڈے پر حملہ ہوا، امریکی وزیر دفاع

واشنگٹن (اے ایف پی+ این این آئی) امریکی بحری اڈے پر فائرنگ کرکے 12 افراد کو ہلاک کرنیوالے شخص کی ماں نے اپنے بیٹے کے فعل پر قوم سے معافی مانگ لی۔ کیتھلین ایلکسیز نے کہا کہ میں ہلاک ہونیوالے افراد کے اہل خانہ کے دکھ میں برابر کی شریک ہوں، میرے بیٹے کی حرکت سے میرا دل ٹوٹ گیا ہے۔ ادھر امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ سکیورٹی حکام کی طرف سے ریڈ الرٹ کو نظرانداز کرنے کی وجہ ےس یہ المناک واقعہ پیش آیا۔ انہوں نے کہاکہ حملے کے بعد پورے ملک میں موجود فوجی اڈوں کی سکیورٹی ازسرنو چیک کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملے کے متعلق بہت سے سوالات کا جواب حاصل کرنا ابھی باقی ہے۔ این این آئی کے مطابق اوباما انتظامیہ نے بحری اڈے پر فائرنگ کے واقعہ کے بعد وفاقی انتظامیہ سے منسلک کنٹریکٹ ملازمین کی جانچ پڑتال کرنے کا اعلان کیا۔ وائٹ ہاوس کے ترجمان جے کارنے نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر براک اوباما کو فیصلے سے متعلق ایک اہم اجلاس کی صدارت کرنے والے ہیں جس میں اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر، ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی اور دیگر اعلی حکام صدر اوباما کو گزشتہ روز پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات اور اس کے بعد کی کارروائی سے آگاہ کریں گے۔ حکام کے مطابق مبینہ ملزم امریکی بحریہ سے بطور کنٹریکٹر منسلک تھا اور پرتشدد ماضی اور نفسیاتی مسائل کے باوجود اسے فوجی اڈے میں کام کرنے کےلئے سکیورٹی کلیئرنس دی گئی تھی۔