عالمی طاقتوں کیساتھ ایسا معاہدہ نہیں ہو گا جس میں قوم کا تحفظ نہ کیا جائے : ایران

 تہران(آن لائن) ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں (گروپ فائیو) کے ایران کے ساتھ مذاکرات کا اگلا دور کل (20) نومبر سے شروع ہوگا۔اس سے قبل تہران حکومت اور عالمی طاقتوں کے گروپ فائیو پلس ون کے درمیان جنیوا میں ہونے والے گزشتہ مذاکرات کسی معاہدے تک پہنچنے کے بغیر ہی ختم ہو گئے تھے۔ دوسری جانب ایران کے اعلیٰ جوہری مذاکرات کار عباس عراقی نے اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات کا اگلا دور مشکل ہو گا اور ایسا کوئی معاہدہ طے نہیں پائے گا، جس میں ایرانی قوم کے حقوق کا تحفظ نہ کیا جائے اور انہیں جوہری پروگرام اور یورینیم افزودگی سے روکا جائے۔ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ جمعے کو امریکی وزیرخارجہ جان کیری سے مقبوضہ بیت المقدس میں ملاقات کے دوران ان مذاکرات کے حوالے سے اپنی تشویش ظاہر کریں گے۔ ہمیں امید ہے ہم اپنے دوستوں کو آمادہ کر لیں گے کہ وہ ایران کے ساتھ ایک بہتر ڈیل تک پہنچیں۔ایران پر مزید دباو¿ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ مجھے بہت زیادہ تشویش ہے کہ اس ڈیل کے بعد ایران کے خلاف کئی برسوں میں لگائی گئی پابندیاں بہ یک جنبش قلم نرم ہو جائیں گے اور ایران عملی طور پر کچھ نہیں دے گا۔‘ نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ کسی معاہدے کو دنیا کے لیے ایک ’ڈراﺅنا خواب‘ قرار دیا ہے۔
ایران