اسرائیل میں القاعدہ سے تعلق کے الزام میں سائنسدان تین سال سے قید

مقبوضہ بیت المقدس(اے ایف پی‘ رائٹرز‘این این آئی)اسرائیل کے سکیورٹی سے متعلق اداروں کی جانب سے القاعدہ سے منسلک مبینہ القاعدہ سائنسدان کو تین سال سے خفیہ طور پر قید میں رکھے جانے کا انکشاف ہوا ہے ، یہ انکشافات اسرائیلی عدالت کی دستاویزات کے ذریعے پیر کے روز سامنے آئے ،سمیر البراق نامی اس زیر حراست مبینہ القاعدہ سائنسدان کو مائیکرو بائیولوجیکل ہتھیار بنانے کا ماہر بتایا گیا ہے۔ اسرائیلی دستاوزات کے مطابق سمیر البراق پاکستان سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد عسکری تربیت کیلئے افغانستان پر چلا گیا تھا جہاں اسے القاعدہ میں بھرتی کر لیا گیا۔ اسرائیلی پراسیکیوٹرز نے سمیر البراق پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔سمیر البراق نے ماہ اکتوبر کے دوران اسرائیلی سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں اپنی حراست کو چیلنج کیا تھا۔اس بارے میں سمیر البراق کے وکیل محمد صالح کا کہنا تھا میرا موکل اگر واقعی اتنا خطرناک ہے، جتنا اسرائیلی حکومت کا دعوی ہے تو تو اس کے خلاف تین سال گزرنے کے باوجود مقدمہ کیوں نہیں چلایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ابھی عدالتی کارروائی جاری تھی ۔