ترک پارلیمنٹ میں شدید ہنگامہ‘ مکے برسائے‘ کرسیوں سے حملہ‘ پانچ اپوزیشن ارکان زخمی‘ دو کے سر پھٹ گئے

ترک پارلیمنٹ میں شدید ہنگامہ‘ مکے برسائے‘ کرسیوں سے حملہ‘ پانچ اپوزیشن ارکان زخمی‘ دو کے سر پھٹ گئے

انقرہ (رائٹرز) مظاہرین کو کنٹرول کرنے کا اختیار پولیس کو دینے کے حوالے سے متنازعہ بل پر بحث کے دوران ترک پارلیمنٹ میں ہنگامہ ہو گیا۔ ارکان ایک دوسرے پر پل پڑے۔گھونسے اور گلاس اور لوہے کے اوزار دے مارے جس کے سبب اپوزیشن کے 5 ارکان زخمی ہو گئے۔ 4 کو ہسپتال داخل کرا د یا گیا۔ ایک خاتون رکن نے بتایا اس طرح کی صورتحال پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ وہ ہتھوڑا جو سپیکر کارروائی کے دوان استعمال کرتا ہے اس کے وار سے 2 ارکان کے سر پھٹ گئے۔ اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔ ایوان اس وقت مچھلی منڈی بنا جب حکمران اے کے پی پارٹی کے ڈپٹی سپیکر نے اپوزیشن ارکان کے بجائے حکومتی رکن کو بحث کی اجازت دیدی۔ ارتھ گرول اپوزیشن کے رکن نے بتایا ایک مکا روکتے ہوئے میرا سر زخمی ہو گیا۔ حکومتی ارکان نے کرسیاں ماریں۔ زخمیوں کے نام موسیٰ قام، اٹکوت اردگو اور رفیق ارلماز بتائے جاتے ہیں۔ اپوزیشن پارٹی سی ایچ پی کے ارکان کا م¶قف ہے مذکورہ بل کے پاس ہونے سے ملک پولیس سٹیٹ بن جائیگا۔ اس کی مخالفت جاری رکھیں گے۔