افغانستان : بم دھماکہ میں 5 خواتین سمیت 7 ہلاک‘ 1500 امریکی فوجیوں کا دستہ کابل روانہ

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی+ اے ایف پی) امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ملا عمر کے نمائندہ اور دیگر طالبان کمانڈروں کے ساتھ مذاکرات کو ممکن بنانے کے لئے چھوٹے درجے کے عسکریت پسندوں کو ملازمتوں اور نقد امداد کی پیش کش کی ہے تاکہ وہ ہتھیار پھینک دیں۔ واشنگٹن ٹائمز کے مطابق اس نوعیت کی پیشکش کے ساتھ ہی ان پر فوجی دباو¿ بڑھایا جا رہا ہے تاکہ خطے میں تشدد کو بات چیت کے ذریعے ختم کیا جا سکے اور شدت پسندوں کی قوت کم کی جائے۔ اخبار نے بتایا ہے کہ بعض پاکستانی اور مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے عہدیدار اور اس حوالے سے دوسری سطح کے طالبان لیڈروں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ بات چیت سے باخبر ایک اور امریکی عہدیدار نے بتایا ہے کہ اس کوشش میں ایک کئی کھلاڑی ملوث ہو چکے ہیں۔ایک مغربی سفارت کار کا بھی کہنا ہے کہ بعض پاکستانی اور عرب اہلکار تعطل کو بامقصد طریقے سے ختم کرنے کے لئے طالبان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بروئے کار لا رہے ہیں۔ جبکہ قندھار میں بم دھماکے میں 5خواتین سمیت7افراد ہلاک‘کئی زخمی ہو گئے۔دریں اثنائ امریکہ نے افغانستان کیلئے پندرہ سو فوجیوں پر مشتمل پہلا دستہ روانہ کردیاہے۔ ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی ریاست شمالی کیرولینا کے لیوجون کیمپ سے یہ فوجی افغانستان کیلئے روانہ ہوئے۔ امریکی فوج کی میجر ہیتھ پریونس نے غیر ملکی ایجنسی کو بتایا کہ افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کو شکست دینا امریکی اور برطانوی فوجیوں کیلئے بڑا چیلنج ہے ۔