پاکستان کا امداد بند کرنا امریکہ کے مفاد میں نہیں: امریکی وزیر خارجہ

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی) امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ پاکستان کی امداد بند کرنا امریکہ کے مفاد میں نہیں ہے۔ امریکی کانگریس کی امور خارجہ کمیٹی میں پاکستان مخالف بھارتی نژاد ریپبلیکن کانگریس مین رانا مدھرا کی طرف سے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کے لئے پاکستان پر دباﺅ ڈالنے کے لئے امداد بند کرنے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ پرانی کہاوت ہے کہ اپنی ناک کاٹنے سے آپ کے چہرے کو نقصان پہنچتا ہے۔ پاکستان کی امداد بند کرنا اچھا اقدام نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستانی ایٹمی تنصیبات کے تحفظ پر کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم پاکستان کے ساتھ افغانستان میں سپلائی پہنچانے اور وہاں سے ساز و سامان واپس لانے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کی امداد بند کرنا اچھا اقدام نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 55ہزار افراد مارے گئے۔ اس دوران رانا مدھرا بار بار ”ڈاکٹر آفریدی امریکی ہیرو“ کے نعرے لگا لگا کر جان کیری کی تقریر میں خلل ڈالتے رہے۔ رانا مدھرا نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کو محفوظ ٹھکانے میسر ہیں۔ پاکستان کو دی جانے والی امداد دہشت گردی کو دی جاتی ہے تاکہ وہ ہم پر حملے کریں اور جس شخص نے ہمیں محفوظ رکھنے کی کوشش کی اس شخص (ڈاکٹر آفریدی) کو قید خانے میں ڈال دیا گیا۔ ہمیں شرم آنی چاہئے کہ جس شخص نے ہمارے مفاد کے لئے کام کیا وہ قید خانے میں ہے۔ اگر ہم ڈاکٹر آفریدی کو بھول گئے تو ہمیں شرم آنی چاہئے۔ اس موقع پر جان کیری نے کہا کہ ہم ڈاکٹر آفریدی کو نہیں بھولے۔ لیکن ڈاکٹر آفریدی کی رہائی اتنی آسان نہیں ہے۔ تاہم ان کی رہائی کیلئے کوششےں جاری رہیں گی۔ جان کیری نے کہا کہ امریکہ پاکستان کی نسبت افغانستان میں بھارتی کردار پر زیادہ بھروسہ کرتا ہے۔ تاہم پاکستان بھارت کشیدگی سے افغانستان میں بھارتی کردار متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں پڑوسی ممالک ایک دوسرے پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان کے درمیان کشیدگی سے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔