قطر میں امریکہ کیساتھ امن مذاکرات جلد شروع ہونے کا کوئی امکان نہیں: طالبان ذرائع

دوحہ/ کابل (رائٹرز) قطر میں مقیم طالبان رہنماﺅں نے گزشتہ ایک سال سے زائد عرصہ کے دوران امریکی حکام سے افغانستان میں قیام امن پر کوئی مذاکرات نہیں کئے جبکہ ایسی کسی بات چیت کا جلد کوئی امکان بھی نظر نہیں آتا۔ یہ بات یہاں طالبان ذرائع نے بتائی۔ طالبان رہنماﺅں کی ایک ٹیم 2012ءمیں امریکہ سے مذاکرات کیلئے قطر پہنچی تھی۔ اس ٹیم کے سب سے ممتاز رکن ملا عمر کے سابق چیف آف سٹاف طیب آغا ہیں۔ اس وفد نے مارچ 2012ءمیں مذاکرات کئے تھے۔ طالبان ذرائع نے بتایا کہ اس وقت سے اب تک کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔ قطر میں بہت سے طالبان لیڈر نجی خاندانی سرگرمیوں میں وقت گزارتے دیکھے جاتے ہیں۔ ایک طالبان ذریعہ نے بتایا کہ اس سال امریکہ کی جانب سے ہمارے ساتھ کوئی رابطہ قائم نہیں کیا گیا جبکہ دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کی کوئی تاریخ بھی مقرر نہیں کی گئی۔ دوحہ میں افغان سفارتخانے کے قونصلر نے بتایا کہ طالبان کا مطالبہ ہے کہ قیدیوں کا تبادلہ کیا جائے اور انہیں بطور گروپ تسلیم کیا جائے۔