طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے آئی ایس آئی سے رابطے ہیں: امریکہ کا الزام

واشنگٹن (آن لائن) امریکی فوج نے الزام عائد کیا ہے کہ افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے پاکستان میں محفوظ ٹھکانے موجود جبکہ دونوں گروپوں کے پاکستانی خفیہ ایجنسی کے ساتھ بھی روابط ہیں۔ افغانستان میں اتحادی فوج کے کمانڈر جنرل جوزف ڈنفورڈ نے امریکی کانگریس کی کمیٹی برائے آرمڈ سروسز کو بریفنگ میں بتایا کہ ہمارے پاس ٹھوس انٹیلی جنس رپورٹس ہیں کہ افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے پاکستانی علاقوں میں محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں۔ ان گروپوں کو پاکستان کی طرف سے تعاون بھی حاصل ہے تاہم یہ تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی ہم جانتے ہیں کہ یہ تعاون پاک فوج کی جانب سے براہ راست فراہم کیا جا رہا ہے۔ حقیقت ہے کہ طالبان خصوصاً حقانی نیٹ ورک کے آئی ایس آئی کے ساتھ تعلقات ہیں اور انفرادی طور پر اس گروپ کی مدد بھی کی جا رہی ہے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ پاکستانی آرمی چیف جنرل کیانی آئی ایس آئی کے سربراہ رہ چکے ہیں تاہم اس بات پر یقین نہیں کیا جا سکتا کہ یہ گروپ آرمی چیف سمیت کسی کے کنٹرول میں ہیں۔ پاکستان اس پوزیشن میں نہیں کہ دہشت گردوں کے ان محفوظ ٹھکانوں کے خلاف م¶ثر کارروائی کر سکے جو ملک کے اندر موجود ہیں۔ گذشتہ کچھ عرصے سے پاکستان کی جانب سے آنے والے بیانات میں تبدیلی آئی ہے اور آرمی چیف جنرل کیانی کی طرف سے بھرپور تعاون پر مبنی رویہ اپنایا گیا ہے۔ سینٹ آرمڈ کمیٹی کے سربراہ کارل لیوین کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سے یہ یقین دہانی کرتا ہے کہ وہ محفوظ اور مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے لیکن یہ صرف زبانی دعوے ہیں اور عملی اقدامات کچھ نظر نہیں آتے۔ امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات اس وقت تک معمول پر نہیں آ سکتے جب تک دہشت گردی کی محفوظ پناہ گاہیں ختم نہیں ہو جاتیں۔