پاکستان اور بھارت ایٹمی طاقتیں ہیں، دونوں میں تصادم تباہ کن ہوگا: جیمز ڈوبنز

پاکستان اور بھارت ایٹمی طاقتیں ہیں، دونوں میں تصادم تباہ کن ہوگا: جیمز ڈوبنز

واشنگٹن (اے این این+اے پی پی) پاکستان اور افغانستان کےلئے امریکہ کے خصوصی نمائندے جیمز ڈوبنز نے پاکستان بھارت تعلقات کو خطے کے استحکام کےلئے اہم قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایٹمی صلاحیت کے حامل دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان تصادم نہ صرف ان دونوں ملکوں بلکہ ہر ایک کیلئے تباہ کن ہو گا، طالبان اس وقت امن مذاکرات میں دلچسپی ظاہر نہیں کر رہے۔ واشنگٹن میں غیرملکی پریس سنٹر میں خطاب کرتے ہوئے جیمز ڈوبنز نے کہاکہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری جنوبی ایشیا کے استحکام کیلئے اہم ہے اور امریکہ اس سلسلے میں کئے جانے والے ہر اقدام کی حمایت کرے گا۔ امریکہ، پاکستان اور افغانستان کے دوسرے پڑوسی ملکوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ افغانستان کے استحکام اور علاقائی معیشت کو مربوط بنانے کیلئے علاقائی حمایت حاصل کی جا سکے۔ جموں وکشمیر تنازعہ پر خطے میں جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں کی وجہ سے اس موسم گرما میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا۔ رواں ماہ کے آخر میں پاکستانی وزیراعظم محمد نواز شریف اور ان کے بھارتی ہم منصب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 68 ویں اجلاس سے خطاب کریںگے جہاں دونوں رہنماﺅں میں امن مذاکرات کی توقع ہے۔ امریکہ افغانستان میں استحکام اور افغانستان کو ایک تجارتی، سرمایہ کاری کا سنگم اور علاقائی مرکز بنانے کیلئے پاکستان اور افغانستان کے دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ پاکستان نے طالبان کے ساتھ رابطہ میں امریکہ کی معاونت کی۔ ڈوبنز نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ دوحہ دفتر کھولا جائے۔ اس جانب کچھ پیشرفت بھی ہوئی تاہم دفتر ابھی کھلا نہیں اور ہم اسے کھلا دیکھنا چاہتے ہیں۔ امریکی نائب وزیر دفاع آ شٹن بی کارٹر نے بھارتی خبررساں ادارے کودیئے گئے انٹرویومیں کہاکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات کی ایک تاریخ ہے جبکہ دونوں ممالک ایٹمی ہتھیار رکھتے ہیں جوکسی قسم کی جنگ کو ناقابل تصور بنا سکتے ہےں دونوں ملکوں کے رہنماﺅں کو اس کا ادراک کرنا چاہیے۔ ہماری بنیادی تشویش یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے پاس ایسا کوئی میکنزم موجود نہیں جس سے نادانستہ طور پر بھی ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال سے بچا جاسکے۔ میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان اور بھارت کے رہنماءاتنے پاگل یا بیوقوف ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے عوام کے خلاف ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ اوباما انتظامیہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کےلئے اس ردھم کو برقرار رکھنے کیلئے سخت جدوجہد کررہی ہے جو اس نے پانچ یا چھ ماہ سے حاصل کیا ہے۔ ایک سوال میں آشٹن بی کارٹر نے واضح کیا کہ امریکہ 2014 کے آخر میں افغانستان نہیں چھوڑ رہا توقع ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ سیکورٹی معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے اس سلسلے میں محض تکنیکی رکاوٹ باقی رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف مہم عالمی ریڈار کی سکرین سے ہٹ چکی ہے افغانستان میں کامیابی سے انتہا پسندی کو شکست دی گئی۔ ہم چاہتے ہیں کہ افغان سیکوٹی فورسز مزید مضبوط ہوں۔