نیٹو فورسز کے انخلا کے بعد 20 ہزار امریکی فوجی افغانستان میں موجود رہیں گے‘ انسداد دہشت گردی کا یونٹ بھی تعینات کیا جائے گا

نیٹو فورسز کے انخلا کے بعد 20 ہزار امریکی فوجی افغانستان میں موجود رہیں گے‘ انسداد دہشت گردی کا یونٹ بھی تعینات کیا جائے گا

کابل (ثناءنیوز) اگلے سال نیٹو کے فوجی دستے افغانستان سے نکل جائیں گے۔ جیسے جیسے یہ وقت قریب آتا جا رہا ہے، ویسے ویسے اس ملک کا مستقبل ایک بڑا سوال بنتا جا رہا ہے۔تمام ماہرین اس امر پر متفق ہیں کہ جنگ سے تباہ حال ملک افغانستان کے مستقبل کا دارومدار چار اہم امور پر ہو گا۔ 2014 میں نیٹو فورسز کے انخلا کے بعد افغانستان میں تعینات رہنے والے اتحادی فوجیوں کی تعداد، طالبان کے ساتھ مذاکرات کے نتائج، افغانستان کے مجوزہ صدارتی انتخابات اور پڑوسی ممالک کی طرف سے افغان مصالحتی عمل کی حمایت پر رضامندی۔امریکی کانگریس کی ریسرچ سروس کے ایک مطالعاتی جائزے کے تحت 2014 میں نیٹو فورسز کے انخلا کے بعد افغانستان میں تعینات رہنے والے فوجیوں کی تعداد غالبا آٹھ ہزار جبکہ تربیت کاروں کی تعداد 12 ہزار ہو گی۔ انسداد دہشت گردی کے یونٹس کی تعداد نا معلوم ہے تاہم اس کے اہلکار بنیادی طور پر امریکہ کی طرف سے متعین کیے جائیں گے۔ امریکہ کے انسٹیٹیوٹ آف پیس سے منسلک جنوبی ایشیائی خطے کے ماہر معید یوسف کا کہنا ہے کہ "یہ نسبتا ایک چھوٹا یونٹ ہو گا۔ سلامتی کے امور سے متعلق قیادت افغانوں کے پاس ہی ہو گی"۔امریکہ اور افغانستان کے مابین سلامتی امور سے متعلق معاہدے کے تحت افغانستان میں باقی رہ جانے والے دستوں کے بارے میں ضوابط بھی طے کئے جائیں گے۔ ماہرین کی اکثریت اس امر کا یقین رکھتی ہے کہ افغانستان میں استحکام اور امن کی بحالی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک طالبان کو ملک کے موجودہ سیاسی نظام میں شامل کرنے پر اتفاق نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی اس بارے میں بات نہیں کرتا کہ کیا طالبان کو سیاسی طور پر شامل کیا جائے یا نہیں۔ اس موضوع کو سرے سے نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کس شکل میں اور کن شرائط کے ساتھ طالبان سیاسی نظام میں حصہ لے سکتے ہیں اور یہ کہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا انجام کیا ہو گا"۔اور باتوں کے ساتھ ساتھ آئندہ برس اپریل میں مجوزہ صدارتی انتخابات بھی اس امر کا فیصلہ کریں گے کہ طالبان کے ساتھ مصالحت کا عمل کامیاب رہتا ہے یا نہیں۔ اب تک حامد کرزئی کی جگہ صدارتی منصب سنبھالنے والی کوئی دوسری مقبول شخصیت سامنے نہیں آئی ہے، جس کا انتخاب کرتے ہوئے آئینی طور پر کرزئی کو تیسری صدارتی مدت سے علیحدہ کیا جا سکے اگر آئندہ صدارتی انتخابات میں دھاندلی ہوئی یا اس کے نتائج مشکوک ہوئے تو افغانستان میں اقتدار کی کامیاب منتقلی کی امید ختم ہو جائے گی۔