امریکی بحریہ ہیڈ کوارٹر میں فائرنگ کرنے والا ذہنی مریض نکلا، پْرتشدد ویڈیوز کھیلتا

واشنگٹن (این این آئی + نیٹ نیوز) واشنگٹن میں امریکی صدارتی محل کے گیٹ پر ایک شخص کی جانب سے کریکر حملے کے بعد وائٹ ہاؤس کو بند کر دیا گیا۔ واشنگٹن ڈی سی میں امریکی صدر کی رہائشگاہ کے شمالی دروازے پر ایک شخص نے دو فائرکریکر پھینکے۔ چھوٹے دھماکوں کی آواز سنتے ہی وائٹ ہاؤس میں کام کرنیوالے افراد کو فوری طور پر عمارت کے اندر جانے کی ہدایت کردی گئی اور سکیورٹی اہلکاروں نے عمارت کو چاروں طرف سے بند کردیا۔ جلد ہی کریکر پھینکنے والے شخص کو بھی ڈھونڈ نکالا، اس شخص کی شناخت ابھی تک ظاہر نہیں کی گئی۔ واقعہ کے بعد وائٹ ہاؤس کا سامنے والا پارک بھی بند کر دیا گیا۔ گذشتہ روز بحریہ کے ہیڈ کوارٹرز پر حملے کے بعد صدر اوباما کے احکامات پر اس واقعہ میں مارے جانیوالے امریکیوں کے اہلخانہ سے اظہار افسوس کیلئے جمعہ تک واشنگٹن ڈی سی میں سرکاری عمارات پر امریکی پرچم سرنگوں رہے گا۔  نیول یارڈ سے ملحقہ علاقوں کے رہائشی افراد نے مرنے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کیں۔ امریکہ میں حکام نے بتایا بحریہ ہیڈ کوارٹرز میں فائرنگ کرنے والا شخص فوجی ٹھیکے دار سے وابستہ تھا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق اس ملازم نے مبینہ طور پر اکیلے ہی یہ حملہ کیا۔ پولیس کا کہنا ہے الیکس نیوی یارڈ میں مصدقہ شناختی کارڈ کے ذریعے داخل ہوا۔ بی بی سی کے مطابق حملہ آور ایرن الیکسز ذہنی امراض میں مبتلا تھا۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرن الیکسز ماضی میں ذہنی امراض کا علاج کراتا رہا۔ 34سالہ الیکسز کا دماغی خلل، بے خوابی اور آوازیں سنائی دینے کے امراض کا علاج ہوتا رہا ہے۔ تاحال اس حملے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ امریکی بحریہ کا کہنا ہے حملہ آور الیکسز نے 2007ء سے 2011ء کے دوران بحریہ کے ریزرو دستوں میں بطور پیٹی افسر تھرڈ کلاس خدمات سرانجام دی تھی۔ یہ واضح نہیں اس نے بحریہ کیوں چھوڑی تاہم امریکی بحریہ کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا اسے بدنظمی کے متعدد واقعات کے بعد نکالا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق الیکسز کو دو مرتبہ حراست میں بھی لیا گیا تھا۔ روزنامہ ٹیلی گراف کے مطابق حملہ آور کے دوستوں کا کہنا ہے الیکسز پرتشدد اور شدید جسمانی قوت سے متعلق ویڈیو گیمز کھیلا کرتا تھا اور بعض اوقات وہ مسلسل 18گھنٹے یہ گیمز کھیلتا رہتا۔ الیکسز کے دوستوں کے مطابق ہو سکتا ہے اس قتل عام کی وجہ یہی ویڈیو گیمز بنی ہوں۔ دوستوں نے یہ بھی بتایا جب 9/11کا سانحہ ہوا اس وقت الیکس قریبی عمارت میں کام کر رہا تھا۔