گیس منصوبہ پاکستان نے وعدے پورے نہ کئے تو جرمانہ ادا کرنا پڑے گا: ایران کا الٹی میٹم

تہران(آئی این پی) ایران نے پاکستان، ایران گیس پائپ لائن کی تعمیر کے حوالے سے پاکستان کو الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں اقدامات اٹھائے ورنہ اسے جرمانہ اداکرنا پڑیگا، پاکستان 31 دسمبر 2014ء تک گیس پائپ لائن کی تعمیر میں مکمل ناکام ہوچکا ہے اور وہ اس پر بھی اس سلسلے میں سنجیدہ اقدامات اٹھانے میں ناکام نظر آرہا ہے۔ ہفتہ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل ایران گیس کمپنی (این آئی جی سی) کے ڈائریکٹر جنرل حامد رضا عراقی نے ان افواہوں کو بھی مسترد کردیا کہ ایران نے منصوبے کی تعمیر میں طویل تاخیر پر پاکستان کو جرمانہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ معاہدے میں طے کی گئی شرائط کے مطابق اگر پاکستان اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہوجاتا ہے تو اسے جرمانہ ادا کرنا پڑیگا۔ یہ قواعد و ضوابط ابھی برقرار اور قابل نفاذ ہیں اور معطل نہیں ہوئے۔ گیس خریداری فروخت معاہدے (جی ایس پی اے) کے تحت پیپلزپارٹی کی حکومت اور ایران میں یہ طے پایا تھا کہ 31 دسمبر 2014ء تک گیس کی فراہمی کے پہلے مرحلے کا آغاز ہوجانا چاہئے تاہم ابھی تک پاکستان نے اپنی طرف سے گیس پائپ لائن منصوبے کی تعمیر کا کام پورا ہی نہیں کیا جس سے مجبوراً ایران کو حتمی اقدام اٹھانا پڑیگا۔ ایران کے سرحدی کمانڈر بریگیڈیئر جنرل روحام بخش حبیبی نے کہا ہے کہ پاکستان ایران کیساتھ سرحد پر سکیورٹی کے ٹھوس اقدامات اٹھائیگا، پاکستانی پولیس کمانڈرز کیساتھ مذاکرات مثبت رہے۔ پاکستان کے چار روزہ دورے سے واپسی پر زاہدان پہنچنے کے بعد ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں اطراف کے وفود نے سرحدی تنازعات‘ انٹیلی جنس اور سکیورٹی تعاون بڑھانے سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی حکام، پاکستانی خفیہ اداروں‘ سکیورٹی ایجنسیوں اور وزارت داخلہ کے نمائندوں میں اچھی مشاورت ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات سے پاکستانی حکام کی جانب سے ایران کیساتھ سرحد پر سکیورٹی کے بہتر انتظامات کرنے کے عزم کا اظہار ہوتا ہے اور ہمیں امید ہے کہ اس آمادگی کے عملی اور ٹھوس نتائج برآمد ہوں گے۔ واضح رہے کہ کچھ عرصہ سے پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدوں پر صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔