کئی بار منہ توڑ جواب کے باوجود پاکستان نے طور طریقے نہیں بدلے: بھارتی وزیر داخلہ

نئی دہلی (نیٹ نیوز) بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ کئی مواقع پر منہ توڑ جواب ملنے کے باوجود پاکستان اپنے طور طریقے نہیں بدل رہا۔ بھارت تاہم پاکستان کی جانب سے لاحق خطرات سے خوفزدہ نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق انہوں نے یہ بات ان انٹیلی جنس رپورٹس کے تناظر میں کہی ہے کہ مبینہ طور پر پاکستان بیسڈ دہشت گرد بھارت میں حملوں کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ یہ حملے اس سال صدر اوباما کی آمد سے قبل مقبوضہ جموں وکشمیر میں آسان اہداف پر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کوششوں کو ناکام بنانے اور امن کے قیام میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جائے گی۔ سکیورٹی کے انتظامات جہاں ضروری ہو کئے جائیں گے۔ دریں اثنا جی او سی کور 16 لیفٹیننٹ جنرل کے ایچ سنگھ نے کہا ہے کہ پیر پنجال کے علاقے میں 200 مسلح عسکریت پسند لائن آف کنٹرول کے 36 لانچنگ پیڈ سے دراندازی کا انتظار کر رہے ہیں اور ممکن ہے کہ پاکستان بھارتی علاقے میں موجود دہشت گرد گروپوں کو  استعمال کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد سکولوں مذہبی مقامات، فوجی قافلوں اور سویلین ایریاز کو ہدف بنا سکتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے حقانی نیٹ ورک سمیت دیگر تنظیموں پر پابندی کے حوالے سے بھارتی وزیرداخلہ نے کہا ہے کہ اگرچہ پاکستان نے ماضی میں کئی تنظیموں پر پابندی عائد کی پھر بھی وہ نئے ناموں سے سامنے آئی ہیں۔ اب یہ بات یقینی بنائے کہ وہ نام بدل کر نہ آئیں۔ یہ ا طلاعات ہیں کہ حکومت حافظ سعید کی جماعت سمیت 10 تنظیموں پر پابندی عائد کر رہا ہے۔  دریں اثنا بھارتی وزیر دفاع  منوہر پاریکر  نے کہا ہے مذاکرات شروع کرنے کیلئے پاکستان کو اپنے ان وعدوں کو عملی جامہ پہنانا ہوگا جو اس نے اپنی سرزمین کو بھارت مخالف دہشت گردانہ سرگرمیوں کیلئے استعمال ہونے کی اجازت نہ دینے کے حوالے سے کئے ہیں۔ اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے انہوں نے پاکستان کی طرف سے جماعۃ الدعوۃ سمیت کئی تنظیموں پر پابندی عائد کرنے کی خبروں کے بارے میں کہا ہے سرحدوں پر خاموشی چھانے دیجئے  اگر اس وقت سرحدیں خاموش ہیں تو یہ پاکستانی فوج کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کی طرف سے گولہ باری کے آغاز کے بعد ہمارے رد عمل کے بعد قائم کی گئی صورتحال کی بدولت ہے۔ فوج نے جنگجوئوں پر دبائو بنائے رکھا ہے  اسکے نتیجے میں جنگجوئوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں انجام دی جارہی ہیں۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا شوپیان میں ہونے والی جھڑپ کا تعلق امریکی صدر کے دورہ بھارت سے ہی؟منوہر پاریکر نے کہا جی نہیں!یہ الگ معاملہ ہے۔