ایڈیٹر کو گستاخانہ خاکے شائع کرنے سے منع کیا مگر وہ ضدی تھا‘ بانی رکن فرانسیسی میگزین

ایڈیٹر کو گستاخانہ خاکے شائع کرنے سے منع کیا مگر وہ ضدی تھا‘ بانی رکن فرانسیسی میگزین

لندن (نیٹ نیوز+ ایجنسیاں) فرانسیسی میگزین چارلی ایبڈو کے ایک بانی رکن ہنری روسیل نے کہا ہے کہ میگزین کا ایڈیٹر سٹیفن شاربونیئر (شارب) مسلسل اشتعال انگیز خاکے چھاپ کر عملہ کے ارکان کی موت کا ذمہ دار ہے۔ ہنری روسیل نے 1970ءمیں اس میگزین کا پہلا شمارہ نکالا تھا، انکا قلمی نام ڈیلفل ڈی ٹون ہے۔ ٹیلی گراف کے مطابق اس ہفتے بائیں بازو کے میگزین نوویل اوبی ایس میں چھپنے والے آرٹیکل میں ہنری روسیل نے شارب کو ایک عجیب قسم کا نوجوان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بہت ضدی اور کوڑھ مغز آدمی تھا، گستاخانہ خاکے چھاپ کر وہ عملہ کے ارکان کی موت کا سبب بنا۔ ہنری روسیل نے کہا ہے کہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت ایک سنگین مسئلہ ہے جس سے گریز کیا جانا چاہئے لیکن شاربونیئر نے یہ مشورہ ماننے سے انکار کر دیا، الٹا مجھے ہی تنقید و تضحیک کا نشانہ بنایا، میں شاربونیئر کو سمجھاتا رہا کہ دل آزاری کا یہ کام آپ مہینوں، برسوں اور دہائیوں تک کرتے رہےں لیکن ایک نہ ایک دن اس کا ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔ ٹیلیگراف کے مطابق انہوں نے بتایا ہے کہ کئی مواقع پر ذاتی طور پر ایڈیٹر شاربونیئر کو انتباہ بھی کیا تھا کہ کسی بھی حالت میں گستاخانہ خاکے شائع نہ کئے جائیں لیکن سٹیفن شاربونیئر نے یہ انتباہ مسترد کر دیا اور وہ ہر حال میں خاکے شائع کرنے کے فیصلے پر قائم رہا۔ جب 2011ءمیں پہلی بار فرانس میں چارلی ایبڈو میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کا ان کو علم ہوا تو انہوں نے اس کے ایڈیٹر شار بونیئر کو لکھا تھا کہ ایسا ہرگز نہ کیا جائے کیونکہ یہ اسلام دشمنی پالیسی ہے، یہ اقدام مسلمانان عالم کو مشتعل کر سکتا ہے۔ شاربونیئر نے میری تجویزنہ مانی اور خاکوں کی اشاعت کو ”ایڈیٹر کا فیصلہ“ قرار دے کر مجھے مایوس کیا، اس نے دوبارہ 2012ءمیں یہ خاکے بلاوجہ شائع کئے۔ جرمن جریدے داراسپی جیل کے مطابق ہنری روسیل نے ایک انٹرویو میں تسلیم کیا ہے کہ چارلی ایبڈو پر حملہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کا نتیجہ ہے، میں سنجیدگی سے کہہ رہا ہوں ساری ذمہ داری چارلی ہےبڈو کے مدیر سٹیفن شار بونیئر پر عائد ہوتی ہے۔ بی بی سی کے مطابق مشتبہ اسلام پسندوں کے خلاف چھاپے اور حراست کے پیش نظر یورپ میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ بیلجیئم، فرانس اور جرمنی میں کم از کم 20 افراد حراست میں لئے گئے ہیں، بیلجیئم نے فرانس کے بعد پولیس کے ساتھ فوج بھی تعینات کرنا شروع کر دی ہے۔ برطانیہ میں پولیس کو دہشت گردانہ حملے کے خدشے کے تحت ہوشیار کر دیا گیا ہے۔ بیلجیئم میں پانچ لوگوں کو ایک دہشت گرد گروپ کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔ چھاپوں میں پولیس کو اسلحہ، گولہ بارود، یہاں تک کہ پولیس کی وردیاں اور بہت سے پیسے ملے۔ عدالت کے ایک اہلکار ایرک وان ڈر سیپٹ نے بتایا کہ پتہ چلا ہے کہ یہ لوگ کئی پولیس اہلکاروں کو مارنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ مجموعی طور پر 13 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے لیکن صرف پانچ کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔ فرانس میں پکڑے جانے والے دو مشتبہ افراد کو بیلجیئم اپنے ملک منگانا چاہتا ہے، اس نے دہشت گردوں سے نمٹنے کے نئے طریقوں کا اعلان کیا ہے۔ ان میں دہشت گردوں کے بیرون سفر کو جرم قرار دیئے جانے کے علاوہ دوہری شہریت کے حامل افراد کی شہریت کا دہشت گردی کا خطرہ پائے جانے پر منسوخ کیا جانا شامل ہیں۔ بیلجیئم کے دہشت گردی کے منصوبے اور فرانس میں ہونے والے حملے کے درمیان کوئی تعلق نہیں ملا تاہم فرانسیسی وزیراعظم مینوئل ولاس نے کہا ہے کہ ان کے باوجود دونوں ممالک کو ایک ہی طرح کے خطرات ہیں۔ ان میں جو تعلق ہے وہ ہمارے اقدار پر حملہ کرنے کا ہے۔ پیرس میں گزشتہ ایک ہفتے میں 12 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ فرانس میں اب تک کا سب سے زیادہ الرٹ ہے اور تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار پولیس اور فوجی اہلکار تعینات ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ فرانس اور بیلجیئم میں ہونے والے واقعات ان کے یورپی پڑوسیوں پر اہم اثرات رکھتے ہیں۔ سپین نے فرانس میں حملے سے چند دن قبل امیدی کولیبلے کی میڈرڈ آمد کے بارے میں جانچ کا آغاز کیا ہے۔دریں اثناءنائیجر کے دارالحکومت نیامے میں مظاہرے دوسرے دن بھی جاری رہے۔ اطلاعات کے مطابق ملک میں فون کمپنی اورنج سمیت فرانسیسی تجارتی کمپنیوں کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ فرانسیسی سفارتخانے نے نائمے میں رہائش پذیر اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں ہی رہیں۔ دارالحکومت میں مزید سات گرجا گھر نذرِ آتش کئے گئے ہیں، حکام نے یہ تعداد تین بتائی ہے۔ بلوہ پولیس نے دارالحکومت کے مرکزی کیتھیڈرل کے گرد حفاظتی حصار قائم کر دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بعض مظاہرین تیر کمانوں اور ڈنڈوں سے مسلح تھے۔ بعض جگہوں پر ان کا پولیس کے ساتھ سخت تصادم ہوا۔ پولیس نے ان پر آنسوگیس پھینکی ہے۔ مقامی شہریوں نے روئٹرز کو بتایا کہ مظاہرین نے گرجا گھروں کو آگ لگا دی، عیسائیوں کی دکانوں پر ہلہ بول دیا۔ ایک مقامی دکان دار نے ٹیلی فون پر بتایا مظاہرین مقامی ہوسا زبان میں چلا رہے تھے: چارلی شیطان ہے، چارلی کے حامی جہنم میں جائیں۔ ایران میں اصلاحات کے حامی اخبار کو ’میں ہوں چارلی‘ کی ہیڈلائن لگانے پر بند کر دیا گیا۔ غےر ملکی انٹےلی جنس اداروں نے اسلام پسند جنگجو¶ں کی جانب سے جرمنی کی نئی اسلام مخالف تحرےک کی جانب سے منعقدہ ہفتہ وار رےلےوں پر ممکنہ حملوں سے متعلق گفتگو کا سراغ لگاےا ہے۔ ڈرسپےگل مےگزےن نے کہا ہے غےر ملکی انٹےلی جنس اداروں نے کچھ معروف عالمی جہادیوں کے درمےان مواصلاتی رابطوں کے مواد کا سراغ لگاےا ہے تاہم اس حوالے سے کوئی خاص تفصےلات نہےں بتائی گئی ہےں۔
 



مقبوضہ بیت المقدس (این این آئی) فلسطینی مسلمان اور عیسائی پیشوا نے مغربی اور اسرائیلی اخبارات میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مذہبی دہشت گردی قرار دیا ہے۔ قبلہ اوّل کے امام ، خطیب اور علماءکونسل کے چیئرمین الشیخ ڈاکٹر عکرمہ صبری، قدامت پسند عیسائیوں کے مذہبی پیشوا عطاءاللہ حنا نے کہا کہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت قابل نفرت اور نہایت گھٹیا حرکت ہے، اسکے نتیجے میں پوری دنیا میں مذاہب اور تہذیبوں کے درمیان خوفناک جنگ چھڑ سکتی ہے۔ علامہ الشیخ صبری نے کہا کہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کرووڑوں مسلمانوں کی دلآزاری اور اشتعال پھیلانے کی گھناﺅنی حرکت ہے جسے صرف مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان خاکوں کی اشاعت کے پیچھے ان اسلام دشمن قوتوں کا ہاتھ ہے جو مسلمانوں کی تہذیب وتمدن سے خائف اوراس خوف کو چھپانے کےلئے مذموم ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں۔ مسلمان ابھی زندہ ہیں اور اس گستاخی کے مرتکب مجرموں کو کبھی معاف نہیں کرینگے۔ الشیخ صبری نے کہا کروڑوں لوگوں کی دل آزاری کرنا حق نہیں بلکہ جنگی جرم ہے اسے کسی صورت میں بھی آزادی اظہار رائے نہیں کہا جا سکتا۔ تمام انبیاءاور بزرگ ہستیاں ریڈ لائن ہیں، انکی شان میں گستاخی برداشت نہیں کی جائےگی۔ فلسطین میں مسیحی برادری کے مذہبی پیشوا عطا اللہ حنا نے اسرائیلی، مغربی اخبارات میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تمام مذاہب کی توہین مذہبی دہشت گردی کے مترادف ہے۔ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی مذہب یا بزرگ ہستی کی توہین قبول نہیں کی جا سکتی۔ ایسے لوگ پوری دنیا میں فساد پھیلا رہے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ دنیا بھر میں مذہبی تصادم کی دانستہ طور پر راہ ہموار کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا میں مذاہب کے درمیان نئی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ روسی میڈیا اور مواصلات کے نگران ادارے نے ملکی میڈیا کو گستاخانہ خاکے چھاپنے سے باز رہنے کی ہدایت کی ہے۔ روس میں مسلمانوں کے سب سے بڑے ادارے مفتی کونسل نے فرانس واقعہ کی مذمت کے ساتھ کہا کہ کسی کے جذبات کو برانگیختہ کرنا بھی امن کیلئے یکساں خطرناک ہے۔ افغان صدر اشرف غنی نے میگزین کی جانب سے گستاخانہ خاکے شائع کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسلام اور مسلمانوں کی توہین قرار دیا ہے‘ انہوں نے بیان میں کہا افغان حکومت اور عوام فرانسیسی میگزین کے اس توہین آمیز اشاعت کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مذہبی اقدار کی توہین ہے جبکہ میگزین کا یہ عمل انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔
فلسطینی/ علماء