امریکہ کو ڈرون پائلٹوں کی کمی کا سامنا،300کی ضرورت ہے:رپورٹ

امریکہ کو ڈرون پائلٹوں کی کمی کا سامنا،300کی ضرورت ہے:رپورٹ

واشنگٹن (آن لائن)دنیا کے مختلف علاقوں میں جاری ملٹری آپریشنز کی وجہ سے امریکہ کو ڈرون طیارے چلانے والے پائلٹوں کی اشد ضرورت ہے۔ امریکہ سالانہ 180 پائلٹ تیار کر سکتا ہے جبکہ اسے ضرورت سالانہ 300 پائلٹوں کی ہے۔امریکی ائرفورس نے ڈرون پائلٹوں کی کمی کو پورا کرنے کے لئے تنخواہوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ، ج±ز وقتی کام کرنے والوں، رضاکاروں، اور ریزرو پائلٹوں کی خدمات حاصل کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ائر فورس سیکرٹری ڈیبورا لی جیمز کا کہنا تھا کہ یہ عارضی اقدامات ہیں اور ان کے تحت ڈرون پائلٹس 25 ہزار ڈالر تک کے بونس بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ امریکہ کو ماضی میں بھی روایتی پائلٹوں کے برعکس ڈرون پائلٹوں کی کمی کا سامنا رہا ہے جبکہ اس وقت امریکہ، عراق اور شام سمیت دنیا کے کئی دیگر حصوں میں ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جس کی وجہ سے اسے مزید ڈرون پائلٹوں کی ضرورت ہے۔امریکی فضائیہ کے سربراہ جنرل مارک ویلش کا کہنا تھا کہ ڈرون طیاروں کے ذریعے دیگر جنگی اور روایتی ہوائی مشنز کی تعداد میں کمی لائی جا رہی ہے اور اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ مستقبل میں ڈرون طیاروں کا استعمال مزید بڑھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فضائیہ سالانہ 180 پائلٹ تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ اسے ضرورت سالانہ تین سو پائلٹوں کی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سالانہ 240 ڈرون پائلٹ ایئر فورس چھوڑ رہے ہیں اور اس کی وجہ ان کی ریٹائرمنٹ ہے یا پھر دیگر شعبوں میں منتقلی ہے۔خاتون سیکرٹری ڈیبورا لی جیمز کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ڈرون آپریٹرز کو ملنے والا ماہانہ اضافی بونس دو گنا بڑھا کر چھ سو ڈالر سے پندرہ سو ڈالر تک کر دیا جائے گا تاکہ وہ ایئر فورس میں ہی رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پچیس ہزار ڈالر کا بونس ان پائلٹوں کو دیا جائے گا، جو کم ازکم چھ سال ملازمت کرتے رہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ فی الحال ایک ڈرون آپریٹر کو ماہانہ چھ سو ڈالر کا اضافی وظیفہ دیا جاتا ہے۔امریکہ کے پاس فی الحال 988 فعال پری ڈیٹر اور ریپر پائلٹ موجود ہیں۔ عام طور یہ جاسوسی اور حملے کے لئے ان دونوں قسم کے ڈرونز کا ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر اس وقت امریکہ کو 12 سو پائلٹوں کی ضرورت ہے۔ ڈرون پائلٹ ایک ہفتے میں چھ دن اور روزانہ اوسطا تیرہ سے چودہ گھنٹے کام کرتے ہیں۔