بوسٹن دھماکوں کا ملزم گرفتار، پاکستان جیسی ٹیکنالوجی استعمال ہوئی: امریکی محکمہ داخلہ

 واشنگٹن (نمائندہ خصوصی+ نوائے وقت نیوز+ نوائے وقت رپورٹ) بوسٹن دھماکوں میں ملوث مبینہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ امریکی ٹی وی سی این این کے مطابق ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور سے ملنے والی ویڈیو کے ذریعے ملزم کو شناخت کے بعد گرفتار کیا گیا، اسے دوسرے دھماکوں کی جگہ پر ملزم کو بیگ لے جاتے دیکھا گیا۔ دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بوسٹن دھماکوں کے مبینہ ملزم کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ بوسٹن دھماکوں میں تین افراد ہلاک اور 180افراد زخمی ہوئے تھے۔ سی این این کے طمابق حکام نے گرفتار شخص کی شناخت فی الحال ظاہر نہیں کی۔ اس حوالے سے جلد ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں ایف بی آئی نے کہا ہے کہ بوسٹن دھماکوں کی ذمے داری کسی نے قبول نہیں کی۔دھماکوں میں گن پاﺅڈر اور چھرے استعمال کئے گئے۔ ایف بی آئی کے مطابق بوسٹن دھماکوں کے لئے پریشرککر میں بارودی مواد کے ساتھ بال بیرنگ اورکیلیں ملائی گئی تھیں۔ امریکی محکمہ داخلہ کا کہنا تھا کہ دہشت گرد ایسے ڈیوائسزافغانستان، بھارت ،نیپال اور پاکستان میں بھی استعمال کرتے ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کاکہنا ہے کہ پریشرککر بم دھماکوں کاسٹائل افغانستان میں اتحادی فوج کیخلاف کارروائیوں جیساہے لیکن سب سے بڑاسوال یہ ہے کہ یہ حملے کئے کس نے؟ علاوہ ازیں امریکی محکمہ خارجہ اور امریکی پولیس نے بوسٹن دھماکوں کے الزا ممیں کسی گرفتاری یاحراست میں لئے جانے کی تردید کر دی۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق منگل کو شہر بھر میں ہلاک ہونے والوں کے لئے دعائیہ تقاریب منعقد کی گئیں۔ صدر اوباما آج بوسٹن میں ایک ماتمی تقریب میں شرکت کریں گے۔ ایف بی آئی کے سپیشل ایجنٹ رچرڈ ڈے لاریئرز نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے نائلون کے ٹکڑے، بال بیرنگ اور کیلیں ملی ہیں جنھیں ’ممکنہ طور پر ایک پریشر ککر سے بنائے گئے آلے میں رکھا گیا تھا‘۔ انھوں نے کہا کہ اس مواد کو ریاست ورجینیا میں واقع ادارے کی تجربہ گاہ میں بھیجا رہا ہے جہاں ماہرین اس کی ساخت اور اجزا کا تجزیہ کریں گے۔ زخمیوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زخموں سے اندازہ ہوتا ہے کہ بموں میں دھات کے ٹکڑے موجود تھے۔ علاوہ ازیںبرطانیہ سمیت دنیا کے بیشتر ممالک نے بوسٹن دھماکوں کے بعد شہروں کی سکیورٹی سخت کر دی۔ واضح رہے کہ آئندہ اتوار کو لندن سمیت دنیا کے 30 بڑے شہروں میں میراتھن ریس کا انعقاد کیا جائے گا۔ سکیورٹی کونسل کی طرف سے بھی دھماکے کی مذمت کی گئی ہے۔