پاکستان کیساتھ تعلقات آسان نہیں‘ ان کا قائم رہنا دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے: امریکہ

واشنگٹن (اے این این) امریکی محکمہ خارجہ کے قائم مقام ترجمان مارک سی ٹونر نے ایک بار پھر کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات آسان نہیں مگران کا قائم رہنا دونوں ممالک کے مفاد مےں ہے، چیلنجز پر قابو پائیں گے۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں تعاون جاری رہےگا۔ گزشتہ روزمعمول کی پریس بریفنگ میں مارک سی ٹونرنے کہاکہ دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کی گئی انڈین مجاہدین کے کالعدم لشکر طیبہ جیسے پاکستانی دہشت گرد گروپوں سے رابطے ہیں اور بھارت میں یہ اپنے طور پر بہت مہلک دہشت گرد گروپ ہے جس نے دہشت گردی کے کئی حملے کئے جن میں بے گناہ شہری نشانہ بنے۔ رواں سال 13 جولائی کو ممبئی دھماکوں میں بھی اس گروپ کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ پاکستان کے ساتھ انسداد دہشت گردی کے معاملات پر قریبی طور پر کام کررہاہے ممبئی حملوں کی تحقیقات جاری ہیں اور ہم دونوں ممالک کی حکومتوں کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ پاکستان سے تعاون خطے میں استحکام کے حوالے سے ضروری اور دونوں ممالک کے طویل مدتی قومی مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات آسان نہیں مگر ان تعلقات کاجاری رہنا دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے اس لئے چیلنجز پر قابو پانے کی کوشش کریں گے۔ مارک سی ٹونرنے کہاکہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعاون کے نتیجے میں بہت سے دہشت گردوں کی ہلاکتیں ہوئیں اور بہت سی مثبت چیزیں سامنے آئیں۔ انہوں نے وزیرستان میں گزشتہ ہفتے ہونےوالے ڈرون حملے میں القاعدہ کے آپریشنل چیف ابو حفص الشہری کی ہلاکت کے بارے میں میڈیا رپورٹس کی تصدیق یا تردید کرنے سے گریزکیا۔