شام مختلف شہروں میں نمازجمعہ کے بعد مظاہرے، فائرنگ سے 19مظاہرےن ہلاک

دمشق (اےن اےن آئی) شام کے مختلف شہروں میں نمازجمعہ کے بعد مظاہرے کئے گئے، سکیورٹی فورسز نے کارروائیوں میں19افراد کو ہلاک کردیا۔مےڈےارپورٹس کے مطابق ایک عینی شاہد نے بتایا کہ شامی فورسز کے اہلکار بسوں اور ٹرکوں پر جمعہ کی صبح ساڑھے چھ بجے کے قریب حماہ کے نزدیک واقع قصبے حلفایا میں پہنچے تھے۔وہ مشین گنوں سے مسلح تھے اور انھوں نے آتے ہی اندھا دھند فائرنگ کردی۔مارے گئے افراد میں دو کا تعلق الجمال خاندان سے ہے اور وہ قریبی گاوں طیبہ سے حلفایا کی جانب آرہے تھے۔سکیورٹی فورسز کے اہلکار دوگھنٹے تک اس قصبے میں موجود رہے اور اس کے بعد وہ وہاں سے چلے گئے۔ شام آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق شامی سکیورٹی فورسز نے ٹینکوں اور بکتربند گاڑیوں کے ساتھ صوبہ ادلب کے شمال مغربی قصبے مآر النعمان پر چڑھائی کر دی۔ نمازجمعہ کے بعد دارالحکومت دمشق کے مختلف علاقوں،حمص ،حماہ اور شمالی صوبہ ادلب میں سکیورٹی فورسز کی بڑی تعداد میں موجودگی کے باوجود حکومت کے خلاف مظاہرے ہوئے لیکن شامی صدر کسی قسم کا سیاسی ،سفارتی یا معاشی دباو خاطر میں نہیں لا رہے ۔وہ ابھی تک اس زعم میں مبتلا ہیں کہ وہ اپنے خلاف گذشتہ چھے ماہ سے جاری عوامی احتجاجی تحریک پر قابو ۔دریں اثنا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے شامی سکیورٹی فورسز کے حکومت مخالفین پرکریک ڈاون پر صدر بشارالاسد کے خلاف ایک مربوط عالمی کارروائی پر زور دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ شامی صدر اپنے وعدوں کو ایفا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔اب بہت ہوچکی ہے۔ اس لئے عالمی برادری کو ان کے خلاف مربوط اقدامات کرنے چاہئیں اور یک آواز ہوکر بولنا چاہیے۔