آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ افغانستان دو ہزار چودہ تک نیٹوفورسز کے انخلا کے لئے تیار نہیں۔

آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ افغانستان دو ہزار چودہ تک نیٹوفورسز کے انخلا کے لئے تیار نہیں۔

برطانوی نیوزایجنسی سےبات چیت کرتے ہوئے آرمی چیف نے شبہ ظاہر کیا کہ دوہزار چودہ تک نیٹو فورسزکا افغانستان سے جانا ممکن نظر نہیں آرہا لہذا اس ڈیڈلائن کو حتمی قرار نہیں دیا جاسکتا، پاک امریکہ تعلقات کے حوالےسے جنرل اشفاق کیانی نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اطیمنان بخش ہیں، اس سے قبل سپین میں نیٹوکے چیفس آف ڈیفنس اجلاس کے شرکا کودہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کےکردار پربریفنگ دیتے ہوئے جنرل اشفاق پرویز کیانی کا کہنا تھا کہ انسداد دہشتگردی مہم میں پاکستان کی خودمختاری اور قومی مفادات ملحوظ خاطررکھ کر فیصلے کئے جاتے ہیں،گزشتہ ایک دہائی سے جاری اس مہم میں کسی بھی ملک کی نسبت پاکستان کاسب سے زیادہ جانی ومالی نقصان ہوا ہے۔ اجلاس کےبعد جنرل اشفاق پرویزکیانی نےامریکی افواج کےسربراہ ایڈمرل مائیک مولن سے ملاقات کی اور خطے اورپاکستان میں سکیورٹی کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ بعد ازاں چیف آف آرمی سٹاف سےفرانس کےچیفس آف ڈیفنس اسٹاف نے بھی ملاقات کی اور دہشگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہا، جبکہ سپین کے بادشاہ کی طرف سے انہیں ملک کا سب سے بڑا فوجی اعزاز\\\"گرینڈ کراس آف ملٹری میرٹ\\\" بھی دیا گیا۔