واشنگٹن: پاکستانی ڈرائیور کا روایتی لباس پہننے پراصرار، ٹیکسی کمشن کیخلاف مقدمہ کرا دیا

نیو یارک (اے پی اے) امریکہ میں ایک پاکستانی نڑاد امریکی ٹیکسی ڈرائیور نے ریاست میزوری میں ٹیکسی کمیشن کے خلاف مذہب کی بنا پر تفریق کرنے کا الزام لگاتے ہوئے مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ان کا اصرار ہے کی وہ وردی کے بجائے اپنا روایتی لباس پہن کر ہی ٹیکسی چلائیں گے۔سینٹ لوئیس شہر میں ٹیکسی چلانے والے 50 سالہ راجہ نعیم کی مشکلات تب شروع ہوئیں جب انھیں ٹیکسی کمیشن کے قوانین کے مطابق ٹیکسی چلاتے وقت وردی پہننے کو کہا گیا۔وردی میں کالی پینٹ اور سفید شرٹ پہننا ہوتا ہے جبکہ راجہ نعیم پاکستان کا روایتی کرتا شلوار اور سر پر مذہبی ٹوپی پہن کر ٹیکسی چلانا چاہتے ہیں۔راجہ نعیم کہتے ہیں ’میں تو اپنے مذہبی فرائض پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھربار چلانے کے لیے نوکری کرنا چاہتا ہوں۔‘راجہ نعیم نے سینٹ لوئیس سرکٹ کورٹ میں دائر مقدّمے میں الزام عائد کیا   کہ ٹیکسی کمیشن کے وردی پہن کر ٹیکسی چلانے کے قانون کے سبب انھیں کام کے دوران اپنے مذہبی لباس پہننے سے روکا جا رہا ہے اور   اس سے ان کی آزادیِ مذہب کے حق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔‘ٹیکسی کمیشن نے اس مسئلے کے حل کے لیے ایک مسجد کے امام سے مذہبی لباس کے بارے میں دریافت کیا۔ جس کے بعد ٹیکسی کمیشن نے راجہ نعیم کو رعایت دیتے ہوئے انھیں گھٹنوں سے اوپر تک کا سفید کرتا اور کالی پینٹ پہننے کی اجازت دی۔لیکن راجہ نعیم بضد ہیں کی وہ  روایتی سفید شلوار اور کرتا ہی پہن کر ٹیکسی چلائیں گے۔