کراچی: 2 تشدد زدہ نعشیں برآمد، فائرنگ سے مزید 10 افراد قتل، سلنڈر دھماکہ


کراچی (نوائے وقت رپورٹ + نیوز ایجنسیاں) کراچی میں فائرنگ سے 10 جاںبحق جبکہ 2 نعشیں برآمد ہوئی ہیں۔ موسیٰ کالونی ریلوے پھاٹک کے قریب تنور مالک محمد اقبال کو سر میں گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ النور سوسائٹی میں اقراءمعارف القرآن اکیڈمی کے استاد قاری غلام سرور کو مدرسے کے سامنے نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے گولیوں کا نشانہ بنایا، سچل تھانے کی حدود صفورا چوک شرگوٹھ سے 40 سالہ شخص کی نعش ملی ہے۔ پولیس کے مطابق مقتول کو اغوا کے بعد بدترین تشدد کر کے ذبح کیا گیا ہے۔ میمن گوٹھ تھانے کی حدود ملیر کھوکھراپار جام گوٹھ ابراہیم آئی ہسپتال کے عقب سے 45 سالہ محمد نواز ولد دلبر خان کی تشدد زدہ نعش ملی ہے۔ علاوہ ازیں ناظم آباد نمبر تین میں عیدگاہ کے قریب حسینی سکول کے گیٹ پر دھماکہ ہوا جس سے خوف و ہراس پھیل گیا۔ دھماکے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سہراب گوٹھ پل کے قریب مسافر بس کو آگ لگا دی گئی۔ نیو کراچی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص جاںبحق ہو گیا۔ دریں اثناءملیر سعود آباد میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہو گیا، ناظم آباد پاپوش نگر کے قریب فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہو گیا جبکہ دومنٹ چورنگی کے قریب فائرنگ سے زخمی ہونے والا شخص ہسپتال میں چل بسا۔ قبل ازیں صدر پارکنگ پلازہ کے قریب فائرنگ سے 2 افراد جاںبحق ہو گئے۔ گارڈن دھوبی گھاٹ میں دو گروپوں کے تصادم میں دستی بموں کا استعمال کیا گیا، جدید ہتھیاروں سے فائرنگ، پولیس غائب رہی تاہم رینجرز نے صورتحال پر قابو پا لیا۔
کراچی