پنجاب سے محبت ہے، طالبان کو ہتھیار پھینک کر مذاکرات پر آنا ہو گا: غلام بلور


لاہور (سٹاف رپورٹر+ ایجنسیاں) وفاقی وزیر ریلوے حاجی غلام احمد بلور نے طالبان کی طرف سے 24سیاسی جماعتوں کی اے پی سی کے اعلامیہ کو مسترد کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کو ہتھیار پھینک کر مذاکرات کے لئے آنا ہوگا‘ طالبان سے کہا ہے تم مرو یا ہم یہ سوچو نقصان کس کا ہے؟‘ آج بھارت کا مسلمان اتنا غیر محفوظ نہیں جتنا پاکستان میں ہے‘ لوگوں نے سیاست میں بہت کچھ کمایا جبکہ ہم نے اپنوں کے ساتھ ساتھ قوم کے بیٹوں کے جنازے بھی اٹھائے ہیں‘ ہمیں اتنا برا بنا دیا گیا کہ انہیں پنجاب نہ آنے دیا جائے کیونکہ یہ پنجاب کے دشمن ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم پنجاب سے بہت پیار کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی نیشنل کونسل کے زیر اہتمام الحمرا میں اپنے بھائی خیبر پی کے کے سینئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور شہید کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ غلام احمد بلور نے کہا کہ ہم نے بھارت کے ساتھ کئی جنگیں لڑیں لیکن اسکے کیا نتائج نکلے بلکہ ہم نے اپنی قوم کو اربوں روپے کے قرضوں میں دھکیل دیا‘ 65 سال بعد بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کی بات ہو رہی ہے۔ اگر ہم پہلے نیچے حقوق دیتے تو پاکستان دولخت نہ ہوتا۔ انہوںنے کہا کہ پڑوسی ملک میں مسلمانوں کو بسوں سے اتار کر قتل نہیں کیا جاتا‘ وہاں پر درگاہوں پر حملے نہیں کئے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کی جنگ میں قوم نے بہت سے جانی ومالی نقصانات اٹھائے ہےں۔ انہوں نے کہا کہ قسمت کی بات ہے پہلے نوجوان بیٹے کا جنازہ اٹھا پھر بھائی کا۔ غلام احمد بلور نے کہا کہ پاکستان کی بڑی بڑی جماعتیں مارشل لاءکی پیداوار ہیں، پنجاب کے لوگوں سے کہتا ہوں کہ وہ ہمیں بھی سینے سے لگا ئےں کیونکہ ہم بھی آپ کے بھائی ہیں۔ ہمیں پنجاب سے بہت محبت ہے۔ تعزیتی ریفرنس کے اختتام پر نیشنل پیس کونسل کی جانب سے بشیر احمد بلور کو دےا جانے والا امن ایوارڈ وزیر ریلوے غلام احمد بلور نے وصول کیا۔
غلام بلور