مزید 120 غیر حاضر ڈاکٹر برطرف، ینگ ڈاکٹرز کا ہڑتالی کیمپ بارش میں بھی جاری


لاہور (نیوز رپورٹر + ایجنسیاں) صوبائی دارالحکو مت مےں ےنگ ڈاکٹرز کا شدےد بارش کے باوجود 13ویں روز بھی بھوک ہڑتالی کےمپ جاری جبکہ محکمہ صحت نے ڈیوٹی سے غیر حاضر مزید 120 ڈاکٹروں کو برطرف کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق ہفتے کے روز بھی ےنگ ڈاکٹرز کا بارش کے باوجود سروسز ہسپتال کے سامنے مطالبات کے حق مےں بھوک ہڑتالی کےمپ جاری رہا جس مےں مختلف ہسپتالوں سے ڈاکٹرز کے علاوہ سماجی اور سےاسی شخصےات بھی اظہار ےکجہتی کےلئے آتی رہےں جبکہ دوسری طرف محکمہ صحت کے مطابق برطرف کئے گئے 120 ڈاکٹرز گذشتہ ڈیڑھ سال سے غیر حاضر اور ملک سے باہر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کو شو کاز نوٹس جاری کے گئے تھے لیکن کسی ڈاکٹر نے ہسپتال حاضری کو ضروری نہیں سمجھا۔ واضح رہے کہ پنجاب میں اب تک ڈیوٹی سے غیر حاضر 280 ڈاکٹر برطرف کئے جا چکے ہیں۔ محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق برطرف کئے جانے والے 120 ڈاکٹروں کا ینگ ڈاکٹرز سے کوئی تعلق نہیں غیر حاضر مزید ڈاکٹروں کی برطرفیوں کا امکان ہے۔ دریں اثناءایک نجی ٹی وی کے مطابق پنجاب حکومت اور بھوک ہڑتالی ڈاکٹروں کے درمیان بالواسطہ رابطے جاری ہیں، حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ینگ ڈاکٹرز ہمارے بچوں کی طرح ہیں، چاہتے ہیں کہ وہ بھوک ہڑتال ختم کر کے ڈیوٹیوں پر آ جائیں۔ محکمہ صحت پنجاب کے ذرائع نے بتایا کہ سینئر ڈاکٹروں سمیت ڈاکٹروں کے نمائندوں پر مشتمل مفاہمتی کمیٹیاں ینگ ڈاکٹرز کو منانے کے لئے کام کر رہی ہیں۔ ینگ ڈاکٹرز سے کہا گیا ہے کہ وہ ایم ایس گوجرانوالہ سے تحریری نہیں تو بالمشافہ ہی معذرت کر لیں تو ان کے خلاف کارروائی ختم کر دی جائے گی۔ دوسری طرف ینگ ڈاکٹرز کے ترجمان ڈاکٹر ناصر عباس کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بعض ذمہ داروں نے رابطہ کیا ہے تاہم انہیں اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیا ہے۔
ڈاکٹر برطرف