ایران کو گیس کی قیمت کم کرنا ہوگی ‘ منصوبے پر کوئی دباﺅ قبول نہیں کریں گے

ایران کو گیس کی قیمت کم کرنا ہوگی ‘ منصوبے پر کوئی دباﺅ قبول نہیں کریں گے

اسلام آباد(این این آئی+ نوائے وقت نیوز) حکومت نے ایران سے باہمی فروخت اور خریداری کے معاہدے (جی ایس پی اے)کی قیمت کی ری نیگوسیشن شق کے تحت قیمتوں کو کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکمانستانِِ ، افغانستان، پاکستان بھارت پائپ لائن کے ریٹ تک آنا ہوگا ۔وزیر اعظم کے مشیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ ہم قیمت ری نیگوسیشن شق کو استعمال کررہے ہیں۔ایران کو قیمت کم کرنی پڑےگی اور ترکمانستان افغانستان پاکستان ، بھارت پائپ لائن کے ریٹ تک آنا ہوگا۔ عاصم حسین نے کہاکہ ترکمانستان سے بھی کم ریٹ ہوسکتے ہیں۔انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایران کی تدبیر انرجی اور پاکستان کی انٹر گیس کمپنی ایرانی فرم کی طرف سے پاکستان میں 781 کلومیٹر پائپ لائن کی تعمیر کےلئے معاہدے پر دستخط نہیں ہوپائے۔ ابھی مزید مشاورت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے پر 27فرری سے پہلے دستخط ہوجائیں گے۔ انہوںنے کہاکہ کابینہ کمیٹی نے ایرانی اور پاکستانی سرکاری کمپنیز کے درمیان 5 روزہ مذا کرات کی روشنی میں پائپ لائن کی تعمیر کیلئے مالی اور تکنیکی امور کی منظوری دےدی ہے۔ مشیر پٹرولیم نے بتایا کہ ایران منصوبے کی تعمیر کیلئے 50 کروڑ ڈالر کا تعمیراتی سامان فراہم کرےگا۔ایران سے درآمد کی جانے والی گیس پاکستان کو 13 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو میں پڑےگی۔ ایرانی کمپنی تدبیر پاک ایران سرحد سے نوابشاہ تک 781 کلو میٹرطویل گیس پائپ لائن بچھائےگی۔دریں اثناءایرانی کمپنی تدبیر نے بعض پاکستانی مطالبات پر مشاورت کیلئے وقت مانگ لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایرانی کمپنی کے نمائندے واپس تہران چلے گئے ہیں اور پاکستانی مطالبات کا جائزہ لینے کے بعد آئندہ ہفتے دوبارہ اسلام آباد آئیں گے جس کے بعد پاکستان ایران گیس پائپ لائن معاہدے کو حتمی شکل دیئے جانے کا قوی امکان ہے۔دریں اثناءمشیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین نے کہا ہے کہ ایران، پاکستان گیس پائپ لائن سے متعلق پاکستان پر کوئی دباﺅ نہیں۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر عاصم نے کہا کہ پاکستان آزاد ملک ہے۔ پائپ لائن کا منصوبہ مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اوگرا کو حکومتی پالیسی کے مطابق کام کرنا چاہئے۔ اوگرا کی خامیوں کو دور کرنا ہوگا۔ دنیا میں گیس اس طرح کہیں استعمال نہیں ہوئی جیسی یہاں سی این جی شعبے میں ہورہی ہے۔