مصر: اخوان المسلمون کے ملک گیر مظاہرے اور مارچ: بس پر گرینڈ حملہ‘ 3 افراد ہلاک‘ 17 زخمی

مصر: اخوان المسلمون کے ملک گیر مظاہرے اور مارچ: بس پر گرینڈ حملہ‘ 3 افراد ہلاک‘ 17 زخمی

قاہرہ (نیوز ایجنسیاں+ اے ایف پی) معزول مصری مرسی کی حامی اخوان المسلمین کے کارکنان نے ملک گیر مظاہرے کئے اور مارچ بھی کیا۔ انہوں نے کہا فوج سیاسی معاملات میں مداخلت نہ کرے اور مرسی کو فوری بحال کیا جائے۔ ایک شرکاءنے کہا امریکہ مداخلت کر کے عوام خواہش کے برعکس اقدامات کر رہا ہے۔ اخوان المسلمین کے ایک ترجمان نے کہا حماس پر مصر میں مداخلت کا الزام بے بنیاد ہے۔ حماس نے کہا مصری اور فلسطینی قوم میں منظم سازش کے تحت غلط فہمیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔ ادھر فوج کی حمایت یافتہ حکومت سے بات چیت کے لئے امریکی ایلچی ولیم برنز قاہرہ پہنچ گئے۔ مرسی کو معزول ہونے کے بعد کسی بھی امریکی عہدیدار کا یہ پہلا دورہ ہے۔ وہ تشدد کے خاتمے اور جمہوری حکومت کو اقتدار منتقلی پر زور دیں گے۔ ایک بیان میں انہوں نے فریقین پر زور دیا وہ تشدد ختم کر کے مذاکرات کریں۔ برنز نے آرمی چیف جنرل عبدالفتح السیسی سے ملاقات میں یہ بات کہی۔ دریں اثناءاین جی اوز کے مطابق مرسی کے اقتدار سے محروم ہونے کے بعد قطبی عیسائیوں پر حملے بڑھ گئے۔ عبوری حکومت روکنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ مزید براں مصری علاقے سینائی کے نواحی قصبے العارس میں عسکریت پسندوں نے سیمنٹ فیکٹری کی بس پر گرنیڈ پھینکا جس سے 3افراد ہلاک اور 17زخمی ہو گئے۔ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ بان کی مون نے اپیل کی انتقامی کارروائیاں بند کی جائیں۔سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر آنسوگیس کے تیل پھینکے، کئی مقامات پر جھڑپیں بھی ہوئیں۔ امریکہ نے کہا ہے مصر کی امداد میں فوری کٹوتی نہیں کر رہے۔ یہ بات وائٹ ہا¶س نے ترجمان نے کہی۔