گستاخانہ خاکوں پر عالم اسلام میں احتجاج، آزادیٔ اظہار نہیں دبانے دینگے: اوباما، کیمرون

گستاخانہ خاکوں پر عالم اسلام میں احتجاج، آزادیٔ اظہار نہیں دبانے دینگے: اوباما، کیمرون

لندن (اے ایف پی+ نیٹ نیوز+ بی بی سی) برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون اور امریکی صدر بارک اوباما نے دہشت گردی کے نظریات کو شکست دینے کے لئے مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ بات دونوں رہنماؤں کی جانب سے ’’ٹائمز‘‘ میں مشترکہ طور پر تحریر کردہ مضمون میں کہی گئی ہے۔ پیرس میں میگزین حملے کے بعد اس مضمون میں دونوں رہنماؤں نے کہا کہ وہ کسی کو بھی اظہارِ رائے کی آزادی دبانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم ان عناصر کے خلاف ساتھ کھڑے رہیں گے جو ہماری اقدار اور زندگی گزارنے کے طریقے کے لئے خطرہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فرانسیسی میگزین چارلی ایبڈو اور کوشر مارکیٹ پر حملوں کے خلاف دنیا نے مل کر آواز بلند کی ہے۔ جب پیرس میں اس آزادی پر حملہ ہوا جسے ہم عزیز رکھتے ہیں تو دنیا نے یک زبان ہو کر اس کا جواب دیا۔ ہم ان قاتلوں اور ان کے نظریات کو شکست دیں گے جو معصوم افراد کے قتل کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اظہارِ رائے کی آزادی کو تشدد سے دبا سکتے ہیں ہم نے اپنے فرانسیسی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ان پر واضح کر دیا ہے کہ ہماری آوازیں بلند سے بلند تر ہوتی جائیں گی۔ ادھر امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ میں فرانس میں آ کر وہاں کے لوگوں سے گہری ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرونگا۔ کینیا کے اخبار نے چارلی ایبڈو میں چھپنے والے خاکے دوبارہ چھاپنے پر معذرت کر لی ہے۔ دریں اثناء چارلی ایبڈو کے نئے شمارے کی چند گھنٹوں کے اندر فروخت کے بعد فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے کہا ہے کہ چارلی ایبڈو اور اس کی اقدار زندہ رہیں گی۔ انہوں نے کہا چارلی ایبڈو زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔ بی بی سی کے مطابق پیرس میں زبردست طلب کی وجہ سے رسالے کی کئی لاکھ اضافی کاپیاں چھاپی جا رہی ہیں۔ یہ رسالہ حملے کے ایک ہفتے بعد شائع ہو رہا ہے۔ رسالے نے اپنے سرورق پر گستاخانہ خاکہ شائع کیا ہے جس کی وجہ سے مسلمان بہت زیادہ برہم ہوئے ہیں۔ صدر اولاند نے تازہ شمارے کی اشاعت کے موقع پر کہا آپ لوگوں کو قتل کر سکتے ہیں لیکن ان کے تصورات کو نہیں۔ رسالے نے ہلاکتوں کے بعد ’نیا جنم‘ لیا ہے۔ عرب ورلڈ انسٹی ٹیوٹ کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرانس کے صدر نے کہا کہ دنیا بھر میں مسلمان انتہا پسندی، بنیادی پرستی اور عدم برداشت کا شکار ہیں، اسلام جمہوریت کے ساتھ ایک موافق مذہب ہے، ہم تمام مذاہب کی حفاظت کرینگے۔ سکیولرازم تمام مذاہب کی عزت کرتا ہے، سکیولرازم کو درپیش خطرے کے خلاف کارروائی کرینگے۔ چارلی ایبڈو کی جانب سے ایک اور گستاخانہ خاکہ شائع کرنے کے فیصلے پر عسکریت پسند تنظیموں نے دھمکیاں دی ہیں، مسلم دنیا میں اس پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔ دولت اسلامیہ اور افغان طالبان نے چارلی ایبڈو کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت کی مذمت کی۔ دوسری جانب ترکی کی حکومت نے ملک کے سب سے بڑے اخبار کم حریت اور بعض انٹرٹینمنٹ سائٹس پر اس میگزین کے کچھ حصے چھاپنے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ خاکوں کی اشاعت پر ترکی میں بھی شدید احتجاج ہوا تھا۔ فرانسیسی میگزین میں خاکے دوبارہ چھپنے پر ترکی نے شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ  آزادی اظہار رائے توہین کا لائسنس نہیں دیتی، گستاخانہ خاکوں کی اشاعتوں سے اشتعال پھیل رہا ہے، ہم اپنے پیارے نبی کریمؐ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کریں گے۔ ترکی کے وزیراعظم احمد داؤد اوگلو نے کہا کہ آزادیٔ اظہار رائے توہین کا لائسنس نہیں دیتی۔ گستاخانہ خاکے سنگین اشتعال انگیز اقدام ہیں۔ ترک صدر  طیب اردگان نے اپنے بیان میں کہا کہ گستاخانہ خاکے نفرت پر مبنی ہیں، اس سے مسلمہ امہ کو ٹھیس پہنچی ہے۔ ہم اس کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے۔ آزادی رائے کا مطلب یہ نہیں کہ شان میں گستاخی کی جائے۔ عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینا چاہئے۔ ہم ایسی حرکات کو برداشت نہیں کریں گے۔