رینجرز کارکنوں پر تھرڈ ڈگری تشدد کرتے ہیں، ثبوت دے سکتے ہیں: الطاف

لندن (این این آئی) متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے رینجرزکے اس بیان کوسختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں رینجرز کے ذرائع نے ملکی وبین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ رینجرز کے اہلکار ماورائے عدالت قتل، گرفتار شدگان پر بہیمانہ تشدد کرنے اور گرفتار شدگان کو بہیمانہ تشدد کے بعد نیم مردہ حالت میں لاپتہ کرنے میں ملوث نہیں۔ الطاف حسین نے کہاکہ اگر حکومت پاکستان، انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس سے رابطہ کرکے اس کی عدالتیں پاکستان میں قائم کرے تو ایم کیو ایم کے سینکڑوں گرفتار کارکنان اس بات کے ثبوت و شواہد مہیا کریں گے کہ رینجرز کے اہلکار نہ صرف اپنے حکام بالا کے اشارے پر گرفتار شدگان پر بہیمانہ طریقے سے تھرڈ ڈگری تشددکرتے ہیں بلکہ پوری مہاجر قوم کو مغلظات بکنے کے بعد انہیں دھمکی دیتے ہیں کہ ہم تمہاری نسلیں مٹانے کے لئے آئے ہیں، اگر مہاجر اپنی زندگی بچانا چاہتے ہیں تو واپس انڈیا بھاگ جائیں۔ انہوں نے وزیراعظم میاں نوازشریف، چیف آف آرمی راحیل شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ مجھ کو بھی روز محشر اللہ کے یہاں جواب دینا ہے لیکن آپ سب کو بھی اللہ کے یہاں جواب دینا ہوگا جہاں نہ کوئی وردی کام آئے گی نہ کرسی، نہ ہی کسی کا کوئی بڑے سے بڑا منصب کام آئے گا اور نہ ہی مال و دولت کام آسکے گی۔ لہذا میں ان ارباب اختیار سے یہ اپیل بھی کرنا چاہوں گا کہ وہ کراچی میں جاری آپریشن میں صرف اور صرف ایم کیو ایم کو نشانہ بنانے، اس کے کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنانے، انہیں ماورائے عدالت قتل کرنے اور گرفتار کرنے کے بعد لاپتہ کرنے کا عمل بندکرائیں۔ دریں اثناء نائن زیرو پر رابطہ کمیٹی کے رہنما حیدر عباس رضوی نے سینیٹر بابر غوری اور عامر خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کراچی میں جاری آپریشن کا رخ دہشت گردوں کے بجائے ایم کیو ایم اور اس کے کارکنوں کی جانب موڑ دیا گیا ہے اور یہ معاملہ 18 فروری کو وزیراعظم کے سامنے اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ کراچی آپریشن کے نام پر کارکنوں اور مہاجروں پر ظلم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں اگر کوئی ٹائر بھی پھٹ جائے تو ایم کیو ایم کی کم بختی آجاتی ہے، ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والوں کے خلاف نا جانے کیوں آپریشن نہیں کیا جاتا جبکہ آئے روز دہشت گرد سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گینگ وار کے دہشت گردوں نے دکان پر بیٹھے ایم کیو ایم کے کارکن سلامت علی کو شہید کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم وہ راستہ استعمال نہیں کریں گے جو نام نہاد سندھی قوم پرستوں اور بلوچستان کے کچھ لوگوں نے کیا اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کارکنان کو جس طریقے سے گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گرفتاریوں سے ہمارے اعصاب کو توڑا نہیں جاسکتا۔دریں اثنا  رات گئے جاری بیان میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ نائن زیرو کی ٹیلیفون لائنوں کو سازش کے تحت خراب کیا گیا۔ نائن زیرو پر فون ملانے میں سخت دشواری کا سامنا ہے۔ ایک منٹ کی بات دو، دو گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ ٹیلی فون لائنوں میں خرابی آپریشن کرنے والوں کی سازش ہے۔ وزیراعظم، وزیر داخلہ،  وزیراعلی  اور گورنر سندھ لائنیں خراب کرنے والے خفیہ ہاتھ تلاش کریں۔