امریکہ سے سکیورٹی معاہدے پر کرزئی کی حمایت کا اعلان‘ پاکستان کو افغانستان کی خاطر تجارتی راہداری کھولنا ہو گی: بھارت

نئی دہلی (نوائے وقت رپورٹ+ ایجنسیاں) بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ سرحد پار تجارت میں کچھ مسائل تھے جنہیں حل کر لیا گیا ہے۔ افغانستان کے دورے پر جاتے ہوئے طیارے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سلمان خورشید نے کہا کہ پاکستان سے تجارت کو آگے بڑھانے کے لئے کوشاں ہیں، پاکستان کو افغانستان کی خاطر سرحد پار تجارتی راہداری کو کھولنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کنٹرول لائن پر ہونیوالے واقعات پاکستان بھارت تجارت کی راہ میں رکاوٹ بنے۔ دریں اثناء بھارت نے امریکہ افغانستان سکیورٹی معاہدے پر افغان صدر حامد کرزئی کی کھل کر حمایت کر دی۔ بھارتی وزیر خارجہ نے اس حوالے سے صحافیوں کو بتایا کہ حامد کرزئی امریکہ سے سکیورٹی معاہدہ کرنے میں محتاط ہیں تاہم ہمارا یہ ماننا ہے کہ کرزئی کی بہادر اور دلیرانہ قیادت جنگ زدہ افغانستان کو امن اور استحکام کی طرف لانے کی کوشش کر رہی ہے۔دریں اثنا بھارتی وزیر خارجہ  سلمان خورشید گزشتہ روز افغانستان کے دورے پر کابل پہنچ گئے انہوں نے حامد کرزئی کے ہمراہ نیشنل ایگریکلچرل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی  یونیورسٹی کا افتتاح کیا۔ ایگریکلچر یونیورسٹی بھارت کی امداد سے قائم کر دی گئی ہے اور یہ افغانستان کی پہلی ایگریکلچر یونیورسٹی بن گئی ہے۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر حامد کرزئی نے کہا کہ ایگریکلچرل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی  یونیورسٹی کا قیام افغانستان میں ہائیر ایجوکیشن کیلئے اہم کامیابی ہے۔ یہ ملک میں زراعت کے اپ گریڈیشن میں اہم پیش رفت ہے۔ بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کے قیام سے دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات  اور چاروں اطراف سے خشکی میں گھرے  ملک میں ایگری کلچر سیکٹر کو فروغ ملے گا۔