مجلس محصورین پاکستان کے زیراہتمام جدہ میں یوم آزادی کی تقریب

جدہ (پ ر) مجلس محصورین پاکستان (PRC) کے تحت کبابش ریستوران میں پاکستان کی آزادی کی 66ویں سالگرہ کے موقع پر ایک پروقار تقریب ہوئی۔ صدارت گلاب خان نے کی اور معروف ادیب خالد المعینا (ستارہ¿ امتیاز) مہمان خصوصی تھے۔ محترم گلاب خان نے صدارتی خطبہ میں PRC کو یوم آزادی کی بروقت تقریب کے انعقاد پر مبارکباد دی۔ انہوں نے علامہ اقبالؒ‘ قائداعظم محمد علی جناحؒ اور دوسرے رہنما¶ں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج اس پلیٹ فارم سے ہمیں عہد کرنا چاہئے کہ انفرادی اور اجتماعی بنیاد پر پاکستان میں اسلام کیلئے جدوجہد کریں گے۔ خالد المعینا نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب نہ صرف دینی معاملہ میں بلکہ دوسرے عالمی مسائل اور معاملات میں ایک ہی فکر کے حامل ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ پاکستان اور بنگلہ دیش مل کر محصورین کے مسئلہ کو حل کر لیں گے اس سلسلے میں OIC اور رابطہ کا تعاون کیا جا سکتا ہے۔ NGOs کو عوام کے درمیان مزید رابطے اور تجارت‘ ثقافت اور تعلیم کے شعبوں میں رابطہ بڑھنا چاہئے۔ کشمیر کمیٹی کے ریاض گھمن نے کہا کہ تکمیل پاکستان کیلئے الحاق کشمیر اور محصورین کی آبادکاری لازم ہے۔ پاکستان انجینئرز سوسائٹی کے انجینئر عزیز احمد نے کہا کہ پاکستان کی غیر یقینی صورتحال کیلئے صرف سرکار‘ مقننہ افواج یا کسی اور کو مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے بلکہ ہم میں سے ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ کنوینئر سید احسان الحق نے تمام مقررین‘ شعرائ‘ صحافیوں اور مہمانوں کا یوم آزادی تقریب میں شمولیت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ 65 سال میں ہم نے کچھ نہ کچھ حاصل کیا۔ کشمیر‘ محصورین‘ کالا باغ ڈیم وغیرہ ہر قیادت کوئی لائحہ عمل طے نہ کر سکی جبکہ نیٹو سپلائی اور ارکان اسمبلی کی مراعات جیسے معاملات بلااختلاف اور بلاتاخیر حل ہو جاتے ہیں اسی لئے ہم بجلی‘ پانی‘ ٹرانسپورٹ جیسے مسائل کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی مسائل کے حل کیلئے حزب اقتدار و اختلاف کو قومی جذبہ سے مل کر حل کرنا ہو گا۔ حامد اسلام خان‘ طارق محمود اور سید شہاب الدین نے بھی یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کیا۔ تقریب کی نظامت سید مسرت خلیل‘ تلاوت قرآن قاری عبدالمجید‘ نعت رسول عامل عثمانی نے پیش کی۔ زمرد خان سیفی‘ عبدالقیوم واثق اور انجینئر مسعود عباسی نے منظوم کلام پیش کیا۔ پاکستان سے معروف شاعر نسیم سحر نے اس موقع پر اپنی خصوصی نظم ارسال کی۔ مندرجہ ذیل قرارداد منظور کی گئی۔ ہم شاہ عبداللہ کی بصیرت کو سلام پیش کرتے جنہوں نے امت مسلمہ کے مظلوم شام و برما کے مسلمانوں کیلئے خصوصی ہنگامی اجلاس بلایا۔ ہم کشمیر میں اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق رائے شماری کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مسئلہ محصورین کے حل کیلئے رابطہ ٹرسٹ کو بحال کیا جائے۔