امریکی کانگریس کی جانب سے حقانی نیٹ ورک کی سرگرمیوں پر شدید تحفظات کے اظہار کے بعد اسے دہشتگرد گروہ قرار دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ

خبریں ماخذ  |  خصوصی رپورٹر
امریکی کانگریس کی جانب سے حقانی نیٹ ورک کی سرگرمیوں پر شدید تحفظات کے اظہار کے بعد اسے دہشتگرد گروہ قرار دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ

محکمۂ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتےہوئےکہا کہ اوباما انتظامیہ حقانی نیٹ ورک کی سرگرمیوں کےحوالےسے کانگریس کے تحفظات سے متفق ہے۔ ایک سوال پر انکا کہنا تھا کہ حقانی نیٹ کے کئی ارکان کو دہشتگرد قرار دیا جاچکا ہے۔امریکی صدر نےحقانی نیٹ ورک کےمتعلق قانون پرگذشتہ ہفتے ہی دستخط کیے ہیں، قانون کے تحت حقانی نیٹ ورک کےبارے میں رائے دینے کے لیے وزیرخارجہ کے پاس تیس دن کا وقت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں موجود امریکی اور اتحادی افواج کو حقانی نیٹ ورک سے شدید خطرات لاحق ہیں، اور یہ نیٹ ورک افغانستان میں سرحد پار حملوں میں براہ راست ملوث ہے۔ اوباما انتظامیہ بارہا پاکستانی حکام سے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرنے پر زور دیتی رہی ہے لیکن امریکی حکومت نے اس کا نام تاحال دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں کیا ہے۔