اسرائیل کے غزہ پر 20 حملے‘ آپریشنل کمانڈر عسکری ونگ حماس اور 2 بچوں سمیت 10 شہید

اسرائیل کے غزہ پر 20 حملے‘ آپریشنل کمانڈر عسکری ونگ حماس اور 2 بچوں سمیت 10 شہید

غزہ (نوائے وقت رپورٹ+ ثناءنیوز+ اے ایف پی+ بی بی سی) اسرائیل کے غزہ اور نواحی علاقوں خان یونس، بیت لیہہ اور دیگر علاقوں پر فضائی حملوں میں 2 بچوں، حماس کے آپریشنل کمانڈر عسکری ونگ احمد جباری اور انکے محافظ محمد الحمس سمیت 10 افراد شہید اور 30 زخمی ہو گئے۔ بی بی سی کے مطابق جباری کے نائب بھی حملے میں مارے گئے۔ احمد جباری چار سال پہلے اسرائیل کے غزہ پر زمینی حملے کے بعد اسرائیل کے ہاتھوں شہید ہونے والے سب سے سینئر رہنما ہیں۔ عینی شاہدین نے کہا کہ احمد جباری غزہ میں ایک کار میں سفر کر رہے تھے جب ان کی کار اسرائیلی حملے کا نشانہ بن گئی۔ اسرائیلی حکام نے الزام لگایا انہوں نے احمد جباری کو دس سال سے دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے ہدف بنایا۔ شفا ہسپتال کے ڈاکٹر ایمان سحبانی نے بھی انکی شہادت کی تصدیق کی ہے۔ دوسری طرف غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں حماس کے کارکنوں نے مظاہرے کئے اور ہوائی فائرنگ کی۔ شرکاءنے اسرائیل سے بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیل کے دفتر خارجہ نے ایک سرکاری دستاویز میں مشورہ دیا ہے کہ اگر اقوام متحدہ فلسطین کو بطور غیر رکن ملک شامل کرنے پر تیار ہو تو صدر محمود عباس کی حکومت گرا دی جائے۔ ان خفیہ دستاویز کے مطابق اگر فلسطین کو اقوام متحدہ میں شمولیت سے باز رکھنے کی دوسری کوشش ناکام ہوتی ہے تو محمود عباس کی حکومت کا تختہ پلٹنا واحد راستہ ہے۔ اسرائیل کے دفتر خارجہ کے اس سرکاری دستاویز کی کاپی بی بی سی کو بھی موصول ہوئی ہے۔ اس دستاویز کو اسرائیل کے وزیر خارجہ اویگڈور لائبرمین نے ابھی تک منظور نہیں کیا تاہم چینل ٹن ٹی وی نے ان کے حوالے سے بتایا کہ اگر فلسطین کی اقوام متحدہ میں شامل ہونے کی کوشش کامیاب ہوتی ہے تو وہ فلسطینی اتھارٹی کو گرانے کی ہرممکن کوشش کرینگے۔ دستاویز میں مشورہ دیا گیا ہے کہ اگر فلسطین اقوام متحدہ میں شمولیت کی کوشش ترک کر دے تو اسرائیل کو اس کے ساتھ امن معاہدہ کرنا چاہئے جس کے تحت ایک ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے جس کی سرحدیں اس وقت تک عارضی ہوں جب تک عرب ممالک میں سیاسی استحکام پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ فلسطین میں انتخابات ہوں اور غرب اردن اور غزہ کے تعلقات کی وضاحت ہو۔ اسرائیل کے وزارت خارجہ کے ترجمان لائبر بن ڈور نے بھی بی بی سی کو بتایا کہ اگر محمود عباس اقوام متحدہ میں شمولیت کی کوشش جاری رکھتے ہیں تو وہ 1993ءکے اوسلو معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہونگے۔مصر نے اسرائیل سے اپنے سفیر کو بلانے کا اعلان کیا ہے۔