ہلکے ہتھیاروں کی تباہ کاریوں پر قابو پانے کیلئے قواعد سخت کئے جائیں: ملیحہ لودھی

ہلکے ہتھیاروں کی تباہ کاریوں پر قابو پانے کیلئے قواعد سخت کئے جائیں: ملیحہ لودھی

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی) پاکستان نے چھوٹے اور ہلکے ہتھیاروں کی تباہ کاریوں پر قابو پانے کیلئے قواعد و ضوابط سخت کرنے اور دنیا بھر میں ان ہتھیاروں پر قابو پانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر اور مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے سلامتی کونسل میں کھلی بحث میں حصہ لیتے ہوئے قومی لائحہ عمل، معاہدوں پر عمل درآمد اور عالمی سطح پر تعاون کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن علاقوں میں ہلکے ہتھیاروں کے باعث تنازعات پیدا ہونا افسوسناک ہے۔ ملیحہ لودھی نے چھوٹے اور ہلکے ہتھیاروں کے غلط استعمال اور غیرقانونی منتقلی، عدم استحکام اور یہ ہتھیار جمع کرنے کے انسانی زندگیوں کو لاحق خطرات اور نقصانات کے موضوع پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ اس وقت صرف 4 ممالک دنیا بھر میں ہلکے اور چھوٹے ہتھیاروں کی کل برآمدات کا تین چوتھائی برآمد کرتے ہیں اور زیادہ تر ایشیائ، افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے ترقی پذیر ممالک ان ہتھیاروں کے بڑے بڑے درآمدکنندگان ہیں، ہمیں ان ہتھیاروں کی تیاری، پیداوار، تجارت، منتقلی اور ان ہتھیاروں کے اثرات کے پورے سلسلہ کو نئی عالمی بحث کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔ ملیحہ لودھی نے توقع ظاہر کی کہ اسلحہ کی تجارت کے 2013ء میں طے پانے والے معاہدہ سے ریاستیں اور معاہدہ کے فریقین ان ہتھیاروں کی منتقلی کو باقاعدہ بننے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ منظم جرائم، منشیات کی سمگلنگ اور اسلحہ کی غیرقانونی تجارت میں باہمی تعلق پایا جاتا ہے جس سے پیچیدگیوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے ان تمام مسائل کو حل کرنے کیلئے اسلحہ کونسل کی عائد کردہ پابندیوں کے مطابق پایندیوں کے اطلاق اور نفاذ، منتقلی کے معیار میں بہتری اور ان ہتھیاروں کی تیاری پر کنٹرول کو بہتر بنا کر ریگولیٹ کیا جا سکتا ہے۔ اسلحہ کی طلب پر قابو پانے کیلئے ٹھوس سیاسی عزم اور موثر اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔ منظم جرائم، دہشت گردی، تنازعات کے عدم حل اور تنازعات کی بنیادی وجوہات بھی اسلحہ کی طلب کا باعث ہیں۔ انسانی زندگیوں کو لاحق خطرات پر قابو پانے کیلئے چھوٹے اور ہلکے ہتھیاروں سے نمٹنے کے سلسلہ میں جامع اور مربوط سوچ اور اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے ان ہتھیاروں کی فروخت، فراہمی ، درآمد اور منتقلی کیلئے ریگولیٹری، نفاذ اور ادارہ جاتی میکنزم بارے ضروری قانون سازی کی ہے۔