سانحہ کراچی سے نشاندہی ہوتی ہے پاکستان میں مذہبی اقلیتیں خطرے میں ہیں، ہیومن رائٹس واچ

نیویارک (نمائندہ خصوصی) عالمی انسانی حقوق کے گروپ ہیومن رائٹس واچ نے پاکستانی حکومت سے کراچی میں اسماعیل برادری کی بس پر حملے کی تحقیقات کرنے اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ گروپ کے مطابق کراچی کا واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت کی جانب سے مسلح گروپوں کیخلاف سخت ایکشن کے دعوئوں کے باوجود مذہبی اقلیتوں کو خطرات درپیش ہیں۔ کراچی میں ہونیوالے قتل عام سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں شیعہ اور دیگر مذہبی اقلیتیں خطرے میں ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا کے ڈائریکٹر فیلم کائن نے کہا جو کوئی بھی سمجھتا ہے کہ 16دسمبر 2014ء کو آرمی پبلک سکول پشاور کے بعد حکومتی اقدامات سے دہشت گردی کا مسئلہ حل ہو جائے گا اسے اپنی رائے پر نظرثانی کرنا چاہئے۔ پاکستانی حکومت اور سکیورٹی ادارے انتہا پسند گروپوں پر قابو پانے اور شہریوں کے تحفظ میں ناکام ہو گئے ہیں۔ فیلم کائن نے کہا کراچی میں حملے نے شیعہ اور دیگر مذہبی اقلیتوں کیخلاف تشدد کے ذرائع پر قابو پانے کیلئے سیاسی عزم کی کمی کو آشکار کر رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا انسداد دہشت گردی کیخلاف قانون سازی، سزائے موت پر عملدرآمد اور گرفتاریوں نے شہریوں کو بنیادی حقوق سے محروم کیا مگر انہیں حملوں سے نہیں بچایا گیا۔