جنوبی افریقہ قذافی کے 64 کروڑ پونڈ مالیت کے جواہرات لیبیا کو واپس کرنے پر رضامند

لندن (خصوصی رپورٹ: خالد ایچ لودھی) لیبیا کے سابق ڈکٹیٹر کرنل معمر القذافی کے قیمتی جواہرات کو جن کی مالیت 650 ملین پونڈ بنتی ہے جنوبی افریقہ کی حکومت باضابطہ طور پر لیبیا کے حوالے کرنے پر رضامند ہو گئی ہے۔ کرنل معمر القذافی کی بے پناہ دولت جنوبی افریقہ کے چار مختلف بینکوں میں محفوظ پڑی ہے۔ 27بلین پونڈ کے لگ بھگ دولت جو کہ لیبیا کے تیل کی فروخت سے حاصل ہوئی تھی اسے کرنل معمر القذافی کے سابق چیف آف سٹاف بشیر الصالح نے لیبیا سے منتقل کر کے جنوبی افریقہ کے بینکوں میں محفوظ کر رکھا تھا۔ اس سے قبل برطانوی حکومت نے 2011ءمیں لیبیا کے اثاثے جن کی مالیت 12بلین پونڈ تھی برطانیہ میں منجمند کر رکھا تھا۔ ان اثاثوں میں ایک بلین پونڈ مالیت کے کرنسی نوٹ بھی شامل تھے اس کے علاوہ لندن میں بھی 10ملین کی مالیت کا انتہائی قیمتی مینشن جس میں سینما ہاﺅس اور سوئمنگ پول بھی تھا اس کا قبضہ اب لیبیا کی نئی حکومت کو دے دیا گیا ہے۔ لیبیا کی نئی حکومت کے تحقیقاتی اداروں نے کرنل معمرالقذافی کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ عبداللہ السونیسی کو گذشتہ سال ماریطانیہ سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ فرار ہو کر مراکش کرنل معمر القذافی کی صاحبزادی عائشہ کے پاس جا رہے تھے۔ گرفتاری کے بعد عبداللہ ال سونیسی نے انکشاف کیا تھا کہ برطانیہ اور جنوبی افریقہ کے علاوہ دیگر یورپی ممالک میں بھی کرنل قذافی کی بے پناہ دولت موجود ہے۔ کرنل معمر القذافی کے دور حکومت کے دوران ان کی صاحبزادی عائشہ سونے کا بنا ہوا صوفہ سیٹ استعمال کرتی رہی ہیں۔ طرابلس میں صدارتی محل سے سونے اور جواہرات کی بھاری مقدار پہلے ہی لیبیا کے عوام نے اپنی مزاحمتی تحریک کے دوران لوٹ لی تھی۔