افغانستان میں نیٹو افواج مقاصد کے حصول میں ناکام رہی ہیں: برطانوی آرمی چیف

لندن (تحقیقاتی رپورٹ خالد ایچ لودھی) برطانوی افواج کے سربراہ جنرل سر پیٹر وال نے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ افغانستان میں نیٹو افواج کو اپنے مقاصد حاصل کرنے میں بری طرح ناکامی ہوئی ہے۔ انہوں نے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ مسلح افواج کے بجٹ میں کٹوتی سے مزید مشکلات پیدا ہوں گی اور مستقبل میں برطانوی فوج اس قابل نہیں رہے گی کہ وہ افغانستان جیسی صورتحال میں کوئی جنگ جیت سکے۔ جنرل .... پیٹر وال نے جو چند ماہ بعد اپنے عہدے سے ریٹائرڈ ہو رہے ہیں برطانوی وزارت خزانہ اور وزارت دفاع کے درمیان پائے جانے والے اختلافات پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارت خزانہ دفایع بجٹ سے 11.5بلین پونڈ دیگر وزارتوں پر خرچ کرنا چاہتی ہے۔ جس سے برطانوی عسکری ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس سے قبل جنرل نیک کارٹر نے جو افغانستان میں نیٹو افواج کے ڈپٹی کمانڈر ہیں اپنے بیان میں کہا تھا کہ سیاستدان افغانستان میں اپنی ناکامی کی ذمہ داری نیٹو پر ڈال رہے ہیں جبکہ نیٹو افواج میں شامل فوجیوں نے اپنے آپ کو بے پناہ مشکلات کے باوجود اپنی جانوں کو خطرات میں ڈال کر افغانستان میں اپنی ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔ لہٰذا فوجی بجٹ میں کٹوتی کرتے وقت افغانستان کی سنگین صورت حال کو مدنظر رکھا جانا چاہئے کیونکہ صوبہ ہلمند میں طالبان افغان فوجیوں کو ہر روز نشانہ بنا رہے ہیں۔ اور گذشتہ چند روز سے طالبان کی جنگی سرگرمیوں میں غیرمعمولی طور پر اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ تین ہفتوں میں افغان فوج کے سو سے زائد جوان اور افسر مارے جا چکے ہیں۔
برطانوی آرمی چیف