یورپی کونسل نے سزایافتہ قیدیوں کے تبادلے کیلئے دی گئی پاکستانی درخواست مسترد کردی

یورپی کونسل نے سزایافتہ قیدیوں کے تبادلے کیلئے دی گئی پاکستانی درخواست مسترد کردی

 برسلز /اسلام آباد (این این آئی) یورپی کونسل نے سزایافتہ قیدیوں کے تبادلے کیلئے دی گئی پاکستانی درخواست مسترد کردی جس سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی پاکستان میں واپسی کی کوششوں کو دھچکا لگا۔ میڈیا رپورٹ کی مطابق یورپی کونسل کی یورپ کی معروف انسانی حقوق کی تنظیموں کی قائد ہے جس میں 47 رکن ممالک شامل ہیں جن میں 28 ارکان یورپی یونین کے ہیں ۔یورپی کونسل نے سزایافتہ قیدیوںکے  تبادلے کیلئے دی گئی پاکستانی درخواست مسترد کردی۔ نجی ٹی وی کے مطابق جب دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم سے رابطہ قائم کیا گیا تو انہوں پاکستانی درخواست مسترد کئے جانے کی تردید کرتے ہوئے کہاکہ یورپین کونسل نے نہ تو درخواست مسترد کی ہے اور نہ ہی قبول ہے انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ابھی اتفاقِ رائے کے لئے کونسل کے سامنے زیرالتوا پڑا ہے۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی نے حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے اسے ناکامی قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ میں مایوس ہوں، مجھے یقین تھا کہ یورپین کونسل میری بہن کے لیے کچھ نہیں کرسکتی جو امریکہ میں قید ہے ۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وکیل ٹینا ایم فوسٹر کی جانب سے سرتاج عزیز کو ارسال کئے گئے ایک خط میں کہا گیا تھا کہ چونکہ کنونشن تک رسائی کی درخواست مسترد ہوگئی ہے تو کیا متبادل اقدامات نہیں کئے جاسکتے۔خط میں کہا گیا کہ پاکستان اور امریکہ نے افغانستان میں امریکی حراست میں پاکستانی قیدیوں کی اپنے ملک واپسی کیلئے ایک دوطرفہ معاہدے کیا تھا۔ٹینا ایم فوسٹر نے واضح کیا کہ ڈاکٹر عافیہ کو 2008ء میں غیر قانونی طور پر افغانستان سے امریکہ منتقل کردیا گیا تھا۔خیال رہے کہ گزشتہ سال اگست میں وفاقی کابینہ نے ایک تجویز کی منظوری دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت سزا یافتہ قیدیوں کی منتقلی کے لیے یورپی کونسل سے معاہدے پر الحاق چاہتی ہے جس کے بعد وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی سرتاج عزیز نے کنونشن تک رسائی کے لیے کونسل کو ایک خط لکھا تھا۔