پاکستان میں ہر تیسرا بچہ جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے، اجتماعی خاندانی نظام بڑی وجہ ہے: برطانوی اخبار کا دعویٰ

لندن (آئی این پی) برطانوی اخبار کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں ہر تیسرے بچے کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے اور ان واقعات میں زیادہ تر ان کے قریبی عزیز ملوث ہوتے ہیں، اجتماعی خاندانی نظام بھی ان واقعات میں اضافے کی بڑی وجہ ہے۔ جمعرات کو برطانوی اخبار ہیلنگڈن ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا پاکستان میں بچوں کی اکثریت اپنے قریبی عزیزوں و رشتہ داروں کے حوالے سے بداعتمادی کا شکار ہیں اور وہ اس کشمکش میں رہتے ہیں کہ کس پر اعتماد کیا جائے اور کس پر نہ کیا جائے۔ برطانیہ میں رہنے والے کئی پاکستانی بچوں کا کہنا ہے کہ ان کے والدین جنسی مسائل کو نہ سمجھتے ہیں اور نہ ہی بچوں کو ان سے اس قسم کے خیالات بتانے کی اجازت ہوتی ہے جس کے باعث بچوں کو جنسی ہراساں کرنے کے واقعات پیش آتے ہیں۔ بعض لڑکیاں جب اپنی بلوغت کی عمر کو پہنچنے کے بعد شادی کے بندھن میں بندھتی ہیں تو یہی چیز ان کی ازدواجی زندگی کی تباہی کا باعث بن جاتی ہے۔ رپورٹ میں برطانیہ کے حوالے سے بھی کہا گیا کہ 11سال سے کم عمر بچوں کو جنسی طور پر ہراساں کئے جانے کے واقعات میں 16فیصد اضافہ ہوا ہے۔