حکومت‘ پاک فوج طالبان سے نمٹنے کیلئے پرعزم ہیں‘ پاکستان تعاون کے بغیر افغانستان میں کامیابی ممکن نہیں: امریکی جنرل

واشنگٹن (این این آئی+ اے این این+ نوائے وقت رپورٹ) افغانستان میں امریکی اور بین الاقوامی فوج کے کمانڈر جنرل جوزف ڈنفورڈ نے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت اور فوج دونوں ہی طالبان کے وجود کو اپنی ریاست کیلئے ایک خطرہ سمجھتے ہیں اور ان کے ساتھ نمٹنے کیلے پرعزم ہیں۔ جنرل جوزف ڈنفورڈ نے امریکی سینٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ وزیراعظم نواز شریف طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تاہم یہ بات واضح نہیں ہے کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ ایک تعمیری معاہدے کی شرائط کیا ہوں گی۔ افغانستان کی موجودہ صورتحال پر  سماعت کے دوران جنرل ڈنفورڈ نے کہا کہ امریکی فوج کابل کے ساتھ دوطرفہ سکیورٹی معاہدے کا اگست تک انتظار کرسکتی ہے اس کے بعد اگر ایک معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے تو وہ اس ملک سے اپنے انخلاء کی تیاری شروع کردے گی۔ سماعت کے دوران ڈیموکریٹک سینیٹر جینے شاہین نے جنرل سے وضاحت کیلئے سوال کیا کہ پاکستان کی صورتحال کس طرح افغانستان کی صورتحال کو متاثر کرسکتی ہے۔ جنرل ڈنفورڈ نے کہا کہ پاکستان کے تعاون اور پاکستان افغانستان کے درمیان مؤثر تعلقات کے بغیر اس خطے میں کامیابی کا تصور کرنا مشکل امر ہے۔ وزیراعظم نواز شریف ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے ایک نئے عزمِ مصمم کے ساتھ آئے تھے۔ جنرل ڈنفورڈ نے کہا کہ انہوں نے حال ہی میں پاکستان کے نئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی تھی جنہوں نے پاکستانی فوج اور افغان سکیورٹی فورسز کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے اپنے بھرپور عزم کا اظہار اشارہ دیا تھا۔ اے این این کے مطابق جنرل جوزف ڈنفورڈ نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کے تعاون کے بغیر افغانستان سے امریکہ کا کامیاب انخلاء ممکن نہیں۔ پاکستانی حکومت اور کالعدم تحریک طالبان کے درمیان مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ امریکی کمانڈر نے کہا کہ ہمارا کردار پاکستان اور افغانستان کے درمیان فوجی سطح پر تعمیری تعلقات قائم کرنے کے حوالے سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستانی حکومت اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان امن بات چیت پر انتہائی گہری نظر رکھے ہوئے ہے، ہم محتاط انداز میں اس صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم نے خاص طور پر شمالی وزیرستان میں تحریک طالبان کے خلاف محدود فوجی کارروائیاں بھی دیکھی ہیں تاہم وزیراعظم نوازشریف اور پاکستانی قیادت مسئلے کے پرامن حل کیلئے کوششیں کر رہی ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق امریکی کمانڈر نے افغانستان سے فوج کے انخلاء کو سکیورٹی رسک قرار دیدیا۔ جوزف ڈنفورڈ نے کہا ہے کہ القاعدہ افغانستان کو مغرب پر تازہ حملوں کیلئے بیس کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ زیرو آپریشن سے القاعدہ کا مورال مزید بلند ہو گا۔ آن لائن کے مطابق جنرل جوزف ڈنفورڈ نے کہا کہ افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا شیڈول کے مطابق مکمل ہو جائے گا۔  جنرل ڈنفورڈ کے مطابق اس دوران افغانستان میں روس کسی بھی طور پر امریکی فوجی انخلا کے عمل کو پٹڑی سے اتار نہیں سکتا۔