امریکی عدالت نے سابق بھارتی سفارتکار دیویانی پر لگائے گئے الزامات مسترد کر دیئے

امریکی عدالت نے سابق بھارتی سفارتکار دیویانی پر لگائے گئے الزامات مسترد کر دیئے

واشنگٹن (آن لائن) امریکی عدالت نے سابق بھارتی سفارت کار دیویانی کھوبراگڑے پر لگائے گئے الزامات مسترد کردیئے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جس وقت بھارتی خاتون سفارت کار پر الزامات عائد کئے گئے انہیں سفارتی استثنیٰ حاصل تھا تاہم فیصلے کے بعد دیویانی کے خلاف نئے شواہد پیش کئے جاسکتے ہیں۔ دوسری جانب دیویانی کے وکیل نے کہا ہے کہ عدالتی فیصلے سے قانون کی حکمرانی قائم ہوئی ہے۔ سابق بھارتی سفارت کار دیویانی کھوبراگڑے کو امریکہ میں ویزا فراڈ اور اپنی نوکرانی کو انتہائی کم اجرت دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا جس کے دوران ان سے انتہائی ناروا سلوک کیا گیا تھا۔   بھارتی سفارت کار کو ویزا دھوکہ دہی اور نیو یارک میں اپنی گھریلو ملازمین کو کم تنخواہ دینے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔مین ہیٹن کی ایک عدالت نے کہا کہ جس وقت دیویانی کھوبراگڑے پر ویزا میں دھوکہ دہی اور اپنی گھریلو ملازمہ کی تنخواہ کے حوالے سے غلط بیانی کے الزامات کے تحت فرد جرم عائد کی گئی اس وقت انہیں سفارتی استثنیٰ حاصل تھا۔اس فیصلے پر دیویانی کے والد نے بے حد خوشی کا اظہار کیا ہے اور بی بی سی سے بات چیت میں کہا ’یہ ہماری زندگی کا سب سے پر سکون لمحہ ہے۔ میں پہلے سے ہی بول رہا تھا کہ یہ پورا معاملہ جھوٹا ہے۔‘دیوانی کے وکیل کے مطابق تکنیکی طور پر یہ معاملہ ختم نہیں ہوا ہے اور اس کی دوبارہ شروعات ہو سکتی ہے، لیکن انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ فیصلہ جارحانہ اور غیر ضروری ہوگا۔آن لائن کے مطابق بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید اکبر الدین نے کہا ہے کہ امریکی عدالت کی طرف سے اس بارے میں فیصلے کو کہا کہ یہ ’’اچھا عمل‘‘ ہے اور اب بھارتی حکومت کے وکلا  اس کا احتیاط سے جائزہ  لے رہے ہیں۔