فرانسیسی وزیرِاعظم مینوئل ویلز نے واضح کیا کہ ان کے ملک کی لڑائی کسی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ شدت پسندوں سے ہے۔

 فرانسیسی وزیرِاعظم مینوئل ویلز نے واضح کیا کہ ان کے ملک کی لڑائی کسی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ شدت پسندوں سے ہے۔

فرانس کی پارلیمنٹ نے مشرقِ وسطیٰ میں سرگرم شدت پسند تنظیم داعش کے عراق میں واقع ٹھکانوں پر فضائی حملوں کا دائرہ وسیع کرنے منظوری دیدی ہے۔ فرانس کی قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم مینوئل ویلز نے واضح کیا کہ ان کے ملک کی لڑائی کسی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ شدت پسندوں سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرانس دہشت گردی، جہادی سوچ اور اسلامی شدت پسندی کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہے، لیکن یہ جنگ، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نہیں۔ فرانسیسی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جن مسلح افراد نے پیرس میں 17 افراد کو قتل کیا وہ ’فرانس کی روح‘ کو قتل کرنا چاہتے تھے،،لیکن وہ اس میں ناکام رہے۔ وزیرِاعظم ویلزنے کہا کہ فرانس کے صدر فرانسس اولاںدے  صاف الفاظ میں کہہ چکےہیں کہ ان کی حکومت فرانس کے تمام شہریوں کی حفاظت کرے گی اور وہ حکومت کے اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔