لیبیا میں صدرکے حامیوں اورمخالفین میں جھڑپیں جاری ہیں جبکہ امریکہ نے کہا ہے کہ معمرقذافی کے پاس اقتدارسے علیحدہ ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

لیبیا میں صدرکے حامیوں اورمخالفین میں جھڑپیں جاری ہیں جبکہ امریکہ نے کہا ہے کہ معمرقذافی کے پاس اقتدارسے علیحدہ ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

قاہرہ میں عرب لیگ کے دفترکے سامنے معمر قذافی کے حامیوں اور مخالفین میں شدید جھڑپیں ہوئی جن میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ادھربرلن میں عالمی وزرائے خارجہ کے اجلاس سے پہلے جرمن چانسلرانجیلا مرکل سے ملاقات کے دوران امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا کہ صدرقذافی کے پاس اقتدارچھوڑنے کے علاوہ اب کوئی چارہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر افغانستان سمیت مختلف ملکوں میں کامیاب آپریشن کئے ہیں اور لیبیا میں بھی جلد عوام کو ریلیف دلائیں گے۔ دوسری طرف وزراء خارجہ کے اجلاس میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل اینڈریئس راسموسین کا کہنا ہے کہ لیبیا کے لوگوں کی حفاظت ہرحال میںمقدم ہے مگر اس کے لئے صرف فوجی طاقت کا استعمال ہی کافی نہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون نے بھی مصر میں ہونیوالی عرب لیگ نیوز کانفرنس میں لیبیا میں تشدد کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معمرقذافی اقتدارکا حق کھوبیٹھے ہیں۔