امریکہ اقتصادی راہداری کو بھارتی نظریہ سےنہ دیکھے : احسن اقبال

واشنگٹن(آن لائن+صباح نیوز) وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کوبھارتی نظریہ سے نہ دیکھا جائے کیونکہ یہ سکیورٹیحکمت عملی نہیں بلکہ ایک معاشی منصوبہ ہے جس سے جنوبی ایشیا اور ملحقہ خطوں میں امن و استحکام آئے گا۔افغانستان سے سوویت یونین کی پسپائی کے بعد عالمی برادری ہاتھ جھاڑ کر چلی گئی ،مغربی دنیا کو کمیونزم کے خلاف ٹرافی مل گئی اور پاکستان آج تک کانٹے چن رہا ہے۔ پاکستان خوددار ملک ہے اس لیے الزام اور اعتماد ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ جان ہوپکنس سکول آف ایڈوانس انٹرنیشنل سٹڈیز میں سیمینار سے خطاب کی مزید تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ نے امریکی حکام پر زور دیا پاکستان کو خطے کی دیگر ریاستوں اور ان کے مسائل کے ساتھ جوڑنے کے بجائے پاکستان کے ساتھ اس کی اہلیت کے مطابق تعلقات رکھے جائیں۔سی پیک کے حوالے سے امریکی اعتراضات پر انہوں نے کہا سی پیک کسی کے خلاف سازش نہیں اور نہ ہی کوئی سکیورٹی پلان ہے بلکہ یہ معاشی ترقی کی جانب ایک منصوبہ ہے جس کی مدد سے پاکستان میں توانائی اور بنیادی ڈھانچے سمیت دیگر اہم شعبوں کے ذریعے سرمایہ کاری پاکستان آئے گی۔ انہوں نے کہا سی پیک کے ذریعے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری خطے میں آ رہی ہے۔ سی پیک سے امن اور علاقائی تعاون کے راستے کھلیں گے۔ انہوں نے امریکہ اور یورپ کو سی پیک میں اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کی دعوت بھی دی۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں پاکستانی عوام نے دیں۔انہوں نے کہا افغانستان میں سیکورٹی کی ناکامی پر پاکستان کو الزام دینا عوام کے خلاف جارحیت کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان افغانستان میں سیاسی مفاہمت کےلئے ہر اقدام کی حمایت کرتا ہے اور سیاسی مفاہمت ہی جنوبی ایشیا میں دیرپا امن و خوشحالی کی ضامن ہے، اس لیے پاکستان کو افغانستان میں سکیورٹی ناکامیوں کا موردالزام ٹھہرانا جذبات مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ افغان سرزمین کو پرامن بنانے کےلئے علاقے کے ممالک اور عالمی طاقتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا پاکستان خوددار ملک ہے اس لیے الزام اور اعتماد ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ پاکستان کسی دوسرے کی جنگ نہیں لڑرہا بلکہ ہم اپنے مستقبل کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ امن کے ذریعے ترقی اور خوشحالی کی جنگ ہے اور حکومت پاکستان کے اقتصادی وژن کی بنیاد خطے میں امن و استحکام کی بحالی پر ہے۔ سی پیک خطے میں ممالک کے مابین باہمی روابط کو مضبوط کرنے کےلئے مو¿ثر کردار ادا کرے گا جبکہ یہ منصوبہ خطے میں باہمی روابط مضبوط بنانے کا موجب بھی ہوگا۔ دریں اثناءورلڈ بنک حکام کے ساتھ ملاقات میں احسن اقبال نے کہا نواز شرےف کے جانے سے سٹاک مارکےٹ کو 14 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ۔ بےرونی چےلنجز سے نمٹنے کے لئے پاکستان کو اندرونی طور پر مستحکم کرنا ہو گا ۔ حکومت ، اپوزےشن اور اداروں کی قےادت کی ےہ ذمہ داری ہے کہ وہ کس طرح اندرونی طور پر پاکستان کو مستحکم رکھےں ۔ افغانستان مےں ناکامےوں کے الزامات پاکستان پرجارحےت کے مترادف ہےں۔ پاکستان چاہتا ہے خطے میں امن و امان کیلئے امریکہ کے ساتھ شراکت دار بن کر کام کرے۔