حماس الفع میں تاریخی معاہدہ10 برس بعد صلح ہو گئی :حامیوں کا جشن

قاہرہ (بی بی سی+ اے ایف پی) فلسطینی گروپ حماس کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے حریف گروپ الفتح سے معاہدہ کر لیا ہے جس کے بعد ایک دہائی سے جاری تنازعہ ختم ہو جائے گا۔ مصر کی ثالثی میں حماس کے ڈپٹی لیڈر صالح اور فتح کے وفد نے دستخط کئے ادھر غزہ میں پرچم پکڑ کر جشن منایا گیا۔ صدر محمود عباس نے ڈیل کا خیرمقدم کیا ہے۔ مصر نے دونوں گروپوں کے درمیان قاہرہ میں مصالحتی مذاکرات کرانے میں کردار ادا کیا ہے۔ 2007 میں فلسطینی گروپ حماس اور الفتح کے درمیان ہونے والی پرتشدد جھڑپوں کے بعد سے غزہ پر حماس اور مغربی کنارے پر الفتح کا کنٹرول قائم ہے۔ اب معاہدے کے تحت فلسطینی اتھارٹی یکم دسمبر سے غزہ کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گی۔ 3 ہزار پولیس اہلکار تعینات ہونگے۔ اب قومی حکومت کے قیام کیلئے مذاکرات ہونگے۔ فلسطینی صدر محمود عباس جلد غزہ کا دورہ کرینگے۔ حماس سے جلد پابندیاں ہٹا لی جائیں گے۔ گذشتہ ماہ حماس غزہ پر حکمرانی کرنے والی کمیٹی کو تحلیل کرنے پر رضامند ہو گئی تھی جو فلسطینی صدر محمود عباس کا اہم مطالبہ تھا۔ محمود عباس کی ح مایت یافتہ الفتح مغربی کنارے پر حکمرانی کرتی ہے۔ ادھر اسرائیلی حکومت کے ترجمان نے مطالبہ کیا ہے حماس کو غیر مسلح کیا جائے اور یہ اسرائیل کو تسلیم کرے۔