تحریک آزادی میں جان بھی چلی جائے تو کوئی پروا نہیں: حریت رہنمامسرت عالم

جموں (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں ایک سابق بھارتی اعلیٰ پولیس افسرنے انکشاف کیا ہے کہ سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ان سے ناراضگی کا اظہار کیا تھا کہ 2010 میں انہوں نے مسرت عالم بٹ کوگرفتار کرنے کے بجائے جعلی مقابلے میں قتل کیوں نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حریت رہنما کی گرفتاری پر عمر عبداللہ نے انہیں 25لاکھ روپے کے انعام سے بھی نوازا تھا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ریٹائرڈ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس سید عاشق بخاری نے جموں میں ایک میڈیا انٹرویو میں کہا کہ 2010کی احتجاجی تحریک کے دوران انہوں نے مسرت عالم بٹ کو ایک آپریشن کے دوران گرفتار کیا تھا جس پر اس وقت کے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے فون پر انہیں مبارکباد دی تھی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ ’’ آپ نے مسرت عالم کو گرفتار کرنے کے بجائے جعلی مقابلے میں قتل کیوں نہیں کیا‘‘۔انہوں نے کہا کہ مسرت عالم کی گرفتاری پر دس لاکھ روپے کا انعام رکھا گیا تھا لیکن عمر عبداللہ نے اپنی جیب سے انہیں مزید پندرہ لاکھ روپے دیے تھے ۔ سید عاشق بخاری کا کہنا تھا کہ 2010کی احتجاجی تحریک کے دوران سینکڑوںنوجوانوں کو گرفتار کرنے اور تحریک کو دبانے کے لیے انتہائی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے پر انہیں قوائد و ضوابط سے ہٹ کو ترقی دی گئی ۔مقبوضہ کشمیر میں سینئر حریت رہنما مسرت عالم بٹ نے جنہیں حال ہی میں بھارتی جیل سے رہا کیا گیا ہے ، کہا ہے کہ وہ جان کی پرواہ کیے بغیر آزادی کا سفر جاری مقصد کے حصول تک جاری رکھیں گے۔