امریکہ : سیاہ فام کے قتل کیخلاف مظاہرہ ، فائرنگ ، 2 اہلکار زخمی ، فرگوسن کے پولیس چیف مستعفی

 امریکہ : سیاہ فام کے قتل کیخلاف مظاہرہ ، فائرنگ ، 2 اہلکار زخمی ، فرگوسن کے پولیس چیف مستعفی

واشنگٹن +فرگوسن ( نما ئندہ خصوصی + بی بی سی + اے ایف پی ) امریکی ریاست میسوری کے شہر فرگوسن میں گذشتہ برس ایک غیر مسلح سیاہ فام نوجوان کے قتل کے بعد ہونے والے فسادات میں دو پولیس اہلکارگولیاں لگنے سے زخمی ہوگئے ہیں۔سینٹ لوئس کاو¿نٹی کے پولیس چیف جان بیلمر کے مطابق زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں میں سے ایک کو چہرے اور دوسرے اہلکار کو کندھے پر گولی لگی ہے۔ انھیں فرگوسن کے پولیس چیف کے مستعفی ہونے کے بعد ہونے والے مظاہرے کے دوران گولیاں ماری گئی ہیں۔فرگوسن پولیس چیف نے اپنے ادارے میں نسلی تعصب کے بارے میں ایک رپورٹ کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے۔مظاہرین بدھ کی شام فرگوسن پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر جمع ہوئے اور احتجاجی نعرے لگائے۔جان بیلمر نے بتایا کہ شروع میں یہ نسبتاً چھوٹا مظاہرہ تھا لیکن بعد میں مظاہرین کے ہجوم کو ہٹانے کے لیے تین گولیاں چلائی گئیں۔ان کا مزید کہنا تھا: ’میں یہ سمجھ رہا تھا کہ پولیس اہلکاروں کو اتفاقی گولیاں لگنے کے بجائے انھیں براہِ راست نشانہ بنایاگیا ہے۔‘مظاہرین میں سے ایک شخص کیتھ روز نے بتایا کہ انھوں نے ایک پولیس اہلکار کو خون سے لت پت دیکھا جسے دوسرے پولیس اہلکار کھینچ کر لے جا رہے تھے۔کیتھ کا کہنا تھا کہ پولیس نے مظاہرین کو وہیں روکے رکھا تا کہ ان سے بیان لیا جا سکے۔روز نے بتایا کہ مظاہرین وفاقی رپورٹ پر مزید کارروائی کرنے اور پولیس ڈیپارٹمنٹ سے مزید استعفوں کا مطالبہ کر رہے تھے۔پولیس چیف ٹامس جیکسن چھٹے اہلکار ہیں جو مستعفی ہوئے ہیں ۔