آذربائیجان توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرے: صدر ممنون

باکو (آن لائن/ صباح نیوز) صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ پاکستان سرمایہ کاروں کیلئے ایک محفوظ ملک ہے، آذربائیجان پاکستان میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھائے، تیل اور گیس کے شعبے میں آذربائیجان کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ صدر ممنون حسین نے آذربائیجان کے ہم منصب الہام علیوف کے ساتھ پاکستان آذربائیجان بزنس فورم کا افتتاح کیا۔ صدر ممنون حسین نے بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور آذربائیجان کے انتہائی قریبی اور باہمی تعاون پر مبنی تعلقات ہیں، باہمی تعاون سے دونوں ملکوں کی معیشت مضبوط ہوئی ہے، پاکستان اور آذربائیجان مختلف شعبوں میں ایک دوسرے سے تعاون کر سکتے ہیں، مختلف شعبوں میں آذربائیجان پاکستان کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، آذربائیجان پاکستان میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کر سکتا ہے، تیل اور گیس کے شعبے میں آذربائیجان کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، پاکستان سرمایہ کاروں کیلئے ایک محفوظ ملک ہے، آذربائیجان توانائی کے شعبے میں پاکستان میں سرمایہ کاری مواقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، پاکستان میں سرمایہ کاروں کیلئے ایک آزاد پالیسی موجود ہے۔ ہمارے آذربائیجان کے ساتھ انتہائی قریبی اور برادرانہ تعلقات ہیں اور ہم تعاون کو مزید بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آذربائیجان توانائی کے شعبے میں پاکستان سے تعاون کرنے کے لئے تیار ہے اور اس حوالے سے سرمایہ کاری بھی کریں گے۔ مشترکہ بزنس فورم کے اجلاس سے خطاب میں صدر ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان اور آذربائیجان مختلف شعبوں میں ایک دوسرے سے تعاون کرسکتے ہیں جس سے دونوں ملکوں کی معیشت مضبوط ہو گی۔ اجلاس میں دونوں ملکوں سے صنعت اور تجارت کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے تاجروں اور صنعت کاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ آذربائیجان فارماسیوٹیکل اور سرجیکل، کھیلوں کی مصنوعات، دفاعی ساز و سامان، ریڈی میڈ گارمنٹس، چاول، پھلوں اور سی فوڈ سمیت مختلف شعبوں میں پاکستان کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ پاکستانی مصنوعات نہایت اعلیٰ معیار کی ہیں جن کی آذربائیجان کی مارکیٹ میں بہت گنجائش موجود ہے۔ پاکستان تیل اور گیس کی تلاش، نکالنے اور صاف کرنے کے سلسلے میں آذربائیجان کے تجربات سے استفادہ کرنے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔ پاکستان کا محلِ وقوع، اس کی 180 ملین آبادی پر مشتمل مارکیٹ، تعلیم یافتہ اور ہنرمند ورک فورس اور دنیا میں کوئلے کے بڑے ذخائر سرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان کی سرمایہ کاری کی پالیسی بہت لبرل ہے، سرمایہ کاروں کو مکمل ایکوٹی اور سو فیصد منافع کے حصول کے مواقع حاصل ہیں جن سے آزربائیجان کے سرمایہ کاروں کو اٹھانا چاہئے۔ پاکستان خطے کی اقتصادی تنظیموں کے درمیان سرگرم تعاون کا خواہش مند ہے۔ بزنس فورم کے موقع پر دونوں ممالک کے تاجروں، سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں ملاقاتیں کیں اور باہمی تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا۔ آذربائیجان کے صدر نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں پاکستان کی مدد کر سکتے ہیں، ہم اپنی معیشت کو وسعت دینا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے ہمیں پاکستان کی مدد درکار ہے۔ دونوں ممالک کو لیگل ٹیکس رجیم میں کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دوہرے ٹیکس سے بچا جا سکے۔ صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان دوطرفہ تعاون علاقائی و عالمی سطح پر امن و ترقی کے فروغ کے لئے شراکت داری آنے والے برسوں میں مزید فروغ پائے گی۔ بعدازاں صدر ممنون حسین نے آذربائیجان کے وزیراعظم سے ون آن ون ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات، تجارت اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے بعد صدر ممنون حسین نے آذر بائیجان کے قومی رہنما حیدر علیوف کے مزار پر حاضری دی اور پھول چڑھائے۔