نعیم خان دوبارہ نظر بند، کشمیر میں داعش اور طالبان کا کوئی وجود نہیں: علی گیلانی

نعیم خان دوبارہ نظر بند، کشمیر میں داعش اور طالبان کا کوئی وجود نہیں: علی گیلانی

سری نگر(اے این این+ آن لائن) مقبوضہ کشمیر کے نوگام سیکٹر میں بھارتی فوج نے مجاہدین کی موجودگی کی اطلاع پر پورے علاقے کو گھیرے میں لیکر سرچ آپریشن شروع کردیا جبکہ چیئرمین لبریشن فرنٹ نعیم احمد خان کو دوبارہ نظربندکردیاگیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ضلع کپواڑہ میں حریت پسندوں نے ایک بار پھر پاکستانی پرچم لہرا دئیے۔ تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے نوگام سیکٹر میں حال ہی میں ہونیوالی جھڑپوں کے بعد فوج کو خفیہ اطلاع ملی کہ مجاہدین کا ایک گروپ سرحد پار کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے ۔ اطلاع کے بعد فوج نے پورے علاقہ کا محاصرہ لیکر تلاشی کی کارروائی شروع کردی تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہ آسکی ۔ دوسری جانب لبریشن فرنٹ کے سربراہ نعیم احمد خان کو پولیس نے گزشتہ روز بغیر وجہ بتائے دوبارہ نظر بند کردیا۔ دوسر ی طرف چیئرمین حریت کانفرنس سید علی گیلانی نے وادی کشمیر میں داعش اور تحریک طالبان کے وجود کو خارج ازامکان قرار دیتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ قصبہ سوپور 1931ء سے تحریک آزادی کشمیر کیلئے مضبوط قلعہ ثابت ہوا ہے اور خفیہ ایجنسیاں ایک منصوبہ کے تحت اس قلعے میں شگاف ڈالنے کی کوششیں کررہی ہیں۔ انہوں نے ان اطلاعات پر تشویش اور فکرمندی کا اظہار کیاکہ سوپور کے باشندوں کو مختلف ناموں سے شائع پوسٹروں کے ذریعے سے ڈرایا دھمکایا جاتا ہے ۔ آزادی پسند رہنما نے کہا کہ جموں کشمیر میںداعش اور تحریک طالبان پاکستان جیسی تنظیموں کا کوئی وجود نہیں ہے۔ گیلانی نے کہا کہ قربانیوں کے اعدادوشمار ہوں یا الیکشن ڈرامے کے بائیکاٹ کا معاملہ، سوپور کے باشندوں کا کردار ہر حیثیت سے قابل رشک اور قابل تقلید ثابت ہوا ہے۔ بھارت کے پالیسی سازوں نے گہری سازش کا جال بْنا ہے اور وہ یہاں کے آزادی پسند عوام کو فرضی تنظیموں کے نام سے خوف زدہ اور متنفر کرنا چاہتے ہیں۔ دریں اثناء حریت کانفرنس (ع) کے ترجمان نے آغاسید حسن کے اس بیان کو افسوسناک قرار دیا جس میں انہوں نے کہا حریت کانفرنس میں رواں تحریک مزاحمت کے حوالے سے ایک ٹھوس لائحہ عمل اور دور رس پالیسی کا فقدان ہے۔ حریت رہنما اور ان کے حامیوں نے پاکستانی پرچم لہرائے۔ انہوں نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔