دور صدارت میں عراق جنگ کی تکمیل کے اعلان سمیت کئی سنگین غطلیاں کیں: بش

دور صدارت میں عراق جنگ کی تکمیل کے اعلان سمیت کئی سنگین غطلیاں کیں: بش

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی + مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر جارج بش نے متعدد غلطیوں کا اعتراف کیا ہے‘ وائٹ ہاؤس میں بطور صدر آخری پریس کانفرنس کرتے ہوئے بش نے کہا کہ ا وباما کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہو گا کہ وہ امریکہ پر ممکنہ حملے کو روکیں‘ انہوں نے کہا کہ عراق میں مشن کو مکمل قرار دینا اور سوشل سکیورٹی اصلاحات ان کی غلطیاں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے تاہم وہ غزہ میں مکمل جنگ بندی چاہتے ہیں جس کے لئے حماس کی راکٹ باری‘ بعض ممالک کی جانب سے براستہ مصر حماس کو اسلحہ کی فراہمی کی بندش اور فلسطین و اسرائیل کا ایک دوسرے کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ بش نے کہا کہ عراق میں جمہوریت رہے گی یا نہیں وہ کچھ نہیں کہہ سکتے‘ انہوں نے کہا کہ ہم نے عراق سے 30 ہزار فوجی اہلکار واپس بلا لئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے دشمن اب بھی حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا معاہدے کا احترام اور یورینئم کی افزودگی بند کرے‘ شمالی کوریا ارو ایران اب بھی خطے کے لئے خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی مفادات کو ہمیشہ اپنی مقبولیت پر فوقیت دی۔ انہوں نے کہا کہ اوباما کے انتخاب سے ثابت ہو گیا کہ امریکی عوام نسلی امتیاز پر یقین نہیں رکھتے۔ اے پی پی کے مطابق بش نے اپنے 8 سالہ دور صدارت کے دوران سنگین غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے ایک 2003ء میں عراق پر حملے اور صدام کو تخت سے اتارنے کے فوری بعد عراق مشن کی تکمیل کا اعلان کرنا ہے۔