اسرائیلی فوج نے غزہ میں مہلک امریکی ہتھیاروں کا تجربہ کر لیا: ہیومن رائٹس واچ

اسرائیلی فوج نے غزہ میں مہلک امریکی ہتھیاروں کا تجربہ کر لیا: ہیومن رائٹس واچ

واشنگٹن (ثناء نیوز) غزہ کی پٹی پر فوجی جارحیت کے دوران اسرائیل نے کئی قسم کے مہلک ہتھیار بھی ٹیسٹ کر لئے ہیں ان میں وہ ہتھیار بھی شامل ہیں جو امریکہ نے گزشتہ چند برسوں میں اسرائیل کو وافر مقدار میں فراہم کئے ہیں۔ نیز یہ کہ امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی مسلسل فراہمی کی وجہ ہی سے اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر بھرپور جارحیت کا فیصلہ کیا۔ مڈل ایسٹ اسٹڈی سنٹر کی رپورٹ کے مطابق امریکہ و اسرائیل کے درمیان بھرپور فوجی تعاون اور اسرائیل کی جانب سے جنگیں شروع کرنے کی وجہ سے یہ ممکن ہوا ہے کہ اسرائیلی حکومت حقیقی زمینی و فضائی جنگ میں نئے ہتھیار ٹسٹ کرنے میں کامیاب رہی اور اس سے امریکہ کو بلواسطہ فائدہ پہنچ رہا ہے۔ہیومن رائٹس واچ نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ غزہ میں سفید فاسفورس کا غیر قانونی استعمال بند کردے ۔ نیویارک میں تنظیم کے دفتر سے جاری کردہ ایکب یان میں سینئر فوجی تجزیہ کار مارک گالسکو ل نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل اپنی فوجی کارروائیاں چھپانے کے لیے سفید فارسفورس استعمال کررہا ہے ۔ دریں اثناء انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نیولے پلے نے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج کے ممکنہ جنگی جرائم کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئے۔غزہ پر اسرائیلی حملوں کے معاملے نے امریکہ میں مقیم یہودی کمیونٹی کو تقسیم کردیا ہے اور وہ اسرائیلی حملوں کی شدید مخالفت کررہے ہیں۔ یہودیوں کی سرکردہ تنظیم ’’Peace Now‘‘ کے ترجمان اوری نیر کے مطابق امریکہ میں مقیم کچھ یہودی اس جنگ کو جائز قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس جنگ سے نہ صرف ناخوش ہیں بلکہ ان کا خیال ہے کہ اس کو روکنے کیلئے سفارتی ذرائع استعمال نہیں کئے گئے۔ امریکی یہودی کمیونٹی میں یہ تقسیم پہلی بار 2006ء میں شائع ہونیوالی سٹیفن والٹ اور جان میئر شیمر کی کتاب ’’اسرائیلی لابی اور امریکی خارجہ پالیسی‘‘ کے منظرعام پر آنے کے بعد سامنے آئی اور مصنفین پر انٹی سیمیٹک ہونے کے الزامات لگائے گئے۔