مقبوضہ کشمیر: انتخابی ڈرامہ کے پانچویں مرحلہ کیخلاف ہڑتال‘ مظاہرے‘ کئی علاقوں میں کرفیو

مقبوضہ کشمیر: انتخابی ڈرامہ کے پانچویں مرحلہ کیخلاف ہڑتال‘ مظاہرے‘ کئی علاقوں میں کرفیو

سرینگر (اے پی پی+اے این این+ ریڈیو نیوز) مقبوضہ کشمیر میں جاری انتخابی ڈھونگ کے پانچویں مرحلہ کیخلاف مکمل ہڑتال کی گئی اور مظاہرے کئے گئے۔ مظاہرین نے بھارتی مظالم کیخلاف نعرے لگائے جبکہ بھارتی سکیورٹی فورسزکے بے گناہ افراد پر تشدد، بم حملے، جھڑپ اور انتخابی تصادم کے مختلف واقعات میں دو سکیورٹی اہلکاروں سمیت 13 افراد زخمی ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق ضلعی پلوامہ کے علاقے ٹھہب میں سینکڑوں نوجوانوں نے علاقے میں الیکشن ڈیوٹی کیلئے پہنچنے والے بھارتی اہلکاروں کا زبردست پتھرائوسے استقبال کیا جس کے جواب میں بھارتی اہلکاروں نے راہگیروں کو بھی زبردست زدوکوب کیا جس سے کم از کم 8 افراد زخمی ہوگئے۔ بعدازاں بھارتی اہلکاروں نے بعض رہائشی مکانات کے شیشے بھی توڑ دئیے۔ ادھر نامعلوم افراد نے راجباغ میں قائم ڈیمو کریٹک پارٹی (نیشنلسٹ) کے صدر دفتر پر دستی بم سے حملہ کیاجس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار سمیت 2افراد زخمی ہوگئے۔ بھارتی سکیورٹی فورسزنے پٹن کے علاقے میں ایک بارودی سرنگ کو ناکارہ بنا دیا۔ کشتواڑ میں مجاہدین کے ساتھ جھڑپ میں ایک سکیورٹی اہلکار زخمی ہوگیا۔ کولگام میں پی ڈی پی اور کانگریس کے حامیوں کے درمیان انتخابی تصادم میں 2 کانگریسی کارکن زخمی ہوگئے۔ ادھر انتخابی ڈھونگ کیخلاف نماز جمعہ کے بعد ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور بھارت کیخلاف نعرے بازی کی۔ دریں اثناء رابطہ کمیٹی کی اپیل پر کشمیری آج ’’جہاں الیکشن وہاں چلو پروگرام‘‘ کے تحت پلوامہ جائیں گے۔ اے پی پی کے مطابق سرینگر اور بڈگام میں غیر اعلانیہ کرفیو کا نفاذ کر دیا ہے جبکہ جامع مسجد سرینگر سے ملحقہ علاقوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا۔ انتخابی ڈرامے کا پانچواں مرحلہ آج ہو گا۔ علاوہ ازیں حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق اور سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انتخابی عمل کے نام پر عوام کو غیر اعلانیہ کرفیو کے ذریعے یرغمال بنادیا گیا ہے‘ الیکشن کا بائیکاٹ کیا جائے۔ انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر ایک بیان میں انہوں نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوںپر توجہ دیں۔ اس قیامت خیز صورتحال کے پیش نظراقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی خاموشی حالات کو مزید بگاڑنے کا سبب بن سکتی ہے۔ حریت کانفرنس کے سینئر رہنما شبیر احمد شاہ کو قابض انتظامیہ نے سرینگر سنٹرل جیل سے رہائی کے فوراً بعد جیل کے احاطے ہی سے دوبارہ گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق ،سینئر کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی ، حریت رہنمائوں مولانا عباس انصاری، آغا سید حسن الموسوی، فضل الحق قریشی اور کشمیر بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں عبدالقیوم کو نماز جمعہ کے بعد ہونے والے الیکشن مخالف مظاہروں کی قیادت سے روکنے کیلئے گھروں پر نظربند رکھا اور انہیں نماز جمعہ ادا نہیں کرنے دی گئی۔ کرفیو کے باعث سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں مسلسل پانچویں مرتبہ جمعہ کی نماز ادا نہیں کی جا سکی۔ کشمیر بار ایسوسی ایشن کی اپیل پر وکلاء نے کشمیر میں انتخابی ڈرامے کے خلاف عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔ اس موقع پر بھارتی پولیس نے کشمیر بار ایسوسی ایشن کے وائس پریذیڈنٹ ایڈووکیٹ محمد عبداللہ پنڈت اور جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ غلام نبی شاہین سمیت بار کے پانچ ممبران کو اس وقت تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گرفتار کر لیا جب وہ سرینگر کے لال چوک میں الیکشن مخالف مظاہرہ کرنا چاہتے تھے۔